مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 557
557 فن میں کمال پیدا کرتا ہے۔جس طرح سدھانے والے کے گرد چکر میں دوڑ کر گھوڑا گھوڑے کی قابلیتوں میں کمال حاصل کرتا ہے اور اسی کمال کے مختلف ٹکڑے ترقی کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔غرض آیت مذکورہ بالا میں یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں ہر وقت ایک نئی تبدیلی پیدا ہوتی رہتی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انسان کو بھی اپنے اند رصفات باری کے موجودہ دور کے مطابق تبدیلی کرنی پڑتی ہے اور اس سے بنی نوع انسان کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا ہے۔دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں بنی نوع انسان کا قدم ترقی کی ایک خاص جہت کی طرف اٹھا ہے۔کسی وقت فلسفہ کا دور آیا ہے تو کسی وقت ادب کا۔کسی وقت اخلاق کا دور آیا ہے تو کسی وقت فنون لطیفہ کا۔کسی وقت قانون سازی کا دور آیا ہے تو کسی وقت تصور و شجاعت کا۔غرض اچھے انسانی دماغوں میں ہر زمانہ میں ایک ہم آہنگی معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا کی کشش ہر زمانہ کے اعلیٰ دماغوں کو اس زمانہ کے صفاتی دور کی طرف کھینچنے میں لگی رہتی ہے اور اس فن میں انسانی دماغ زیادہ ترقی کر جاتا ہے جس طرف کہ صفات باری اس وقت اشارہ کر رہی ہوتی ہے۔قرآن کریم نے اسے ” ملاء اعلیٰ " کی مشاورت کا نام دیا ہے۔یہ آسمانی فیصلے جس طرح روحانی امور کے متعلق ہوتے ہیں اسی طرح دنیوی علوم کے متعلق بھی ہوتے ہیں اور وہ دماغ جو اپنا زاویہ صفات باری کے موجودہ زاویہ کے عین مطابق کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اپنے زمانے کے اور اپنے فن کے راہنما بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور تاریخ میں ایک نام پیدا کر لیتے ہیں۔اسی کی طرف رسول کریم میں نے دعائے استخارہ سے اشارہ کیا ہے۔انسان بے شک اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے لیکن بے موسم محنت بھی تو رائیگاں جاتی ہے۔شاید ہر غلہ سال کے ہر حصہ میں بویا جا سکتا ہے اور کچھ نہ کچھ روئیدگی بھی اس سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ غلہ جو اپنے موسم میں بویا جاتا ہے اس کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔اسی طرح شاید ہر غلہ ہر ملک میں بویا جاسکتا ہے لیکن وہ غلہ جو اس ملک میں بویا جاتا ہے جس کی زمین کو اس غلہ سے مناسبت ہے اس کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔ہر انسان کے لئے ہر علم کا حاصل ہونا اور ہر قسم کا کام کرنا ممکن ہے لیکن ہرفن میں اس کا صاحب کمال ہونا ضروری نہیں۔اس کے دماغ کی مخفی قابلیتوں کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔وہی جانتا ہے کہ مختلف مفید علوم میں سے کون سا علم اور مختلف مفید کاموں میں سے کون سا کام اس کی طاقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس کے زمانہ اور اس کے ملک اور اس کی قوم کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے لئے مناسب ہے۔پس فرمایا کہ خواہ اچھے سے اچھا کام ہو اس کے شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی سے دعا کر لیا کرو۔جس کے الفاظ آپ نے یہ تجویز فرمائے ہیں:۔اللهم إنّي اَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاسْتَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العظيم - فَإِنَّكَ تَقْدِرُ ولا اقدر و تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنتَ عَلامُ العُيُوب - اللهم إِن كُنتَ تعلم ان هذا الأمر خير لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَة امْرَى فَا قَدِرَهُ لِى وَ يَسرُهُ لِى فِي