مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 556
556 ذیل میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا وہ خطبہ صدارت درج کیا جاتا ہے جو حضور نے ۱۲اپریل ۱۹۵۰ء کو تعلیم الاسلام کالج کے جلسہ تقسیم اسناد میں ارشاد فرمایا:۔"انسانی زندگی میں مختلف تغیرات آتے ہی رہتے ہیں اور یہی تغیرات انسانی زندگی کی دلچسپی کا موجب ہوتے ہیں۔انسان کی زندگی سے ان تغیرات کو خارج کر دو تو اس کی ساری دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ایک لمبے عرصہ کی ہم آہنگی بھی بعض دفعہ انسانی فطرت کا جزو بن جاتی ہے لیکن فطرت کا جزو بنے اور دلچسپی کا موجب ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔فطرت کا جزو بننے کے صرف یہ معنے ہیں کہ اس شخص کو ہم آہنگی کوئی غیر چیز نہیں معلوم ہوتی۔وہ اسے ناپسند نہیں کرتا۔وہ اس کا عادی ہو گیا ہے۔بعض دفعہ اس ” ہم آہنگی " کو بدلنے سے وہ صدمہ بھی محسوس کرتا ہے مگر اسی طرح جس طرح بازو کا جو ڑالگ ہو جائے تو انسان تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن جب جو ڑاپنے مقام میں صحیح طور پر جڑا ہوا ہو تا ہے تو کوئی خاص کیفیت محسوس نہیں کرتا۔ایک انسان کی ساری عمر اگر اس طرح گزر جائے کہ اس کے بازو کا جو ڑ صحیح طور پر جڑا ر ہے اور کبھی اس میں کوئی تکلیف نہ ہو تو شاید ایک دفعہ بھی اسے خیال نہ گزرے گا کہ اس کے بازو کا کوئی جو ڑ بھی ہے اور وہ اپنی جگہ پر صحیح طور پر جڑا ہوا ہے اور اپنے مقررہ کام کو اچھی طرح ادا کر رہا ہے کیونکہ ہم آہنگی سکون کو پیدا کرتی ہے لیکن فکر میں ہیجان پیدا نہیں کرتی۔پس زندگی در حقیقت تغیرات کا نام ہے۔کوئی ترقی بغیر تغیر کے نہیں۔منزل بہ منزل آگے کو بڑھنے یعنی مختلف نیک تغیرات کے سلسلہ میں سے گزرنا ہی ترقی کی تعریف ہے۔خدا تعالی ازلی ابدی صداقت ہے۔ذات کے لحاظ سے وہ غیر متبدل بھی کہلاتا ہے لیکن صفات کے لحاظ سے وہ بھی غیر متناہی تغیرات اور تبدیلیوں کا حامل ہے۔اگر اس کی صفات کے ظہور میں تغیر اور تنوع نہ ہو تا تو وہ ایک منفی خدا ہوتا جیسا کہ ہندوؤں اور بدھوں کا تصور ہے ، وہ ایک مثبت خدا نہ ہو تا جیسا کہ قرآن کریم کا نظریہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ فَنَا نِ الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِبن (الرحمن:۳۰) یعنی خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں ایک نئی اور اہم حالت میں ہوا ہے۔پس بتاؤ تو سہی کہ تم خدا تعالی کی کس نعمت کا انکار کرو گے؟ ان آیات میں نہایت وضاحت سے صفات الہیہ کے مثبت پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور انسانی ترقی کی ایک جامع مانع تعریف کر دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا زاد یہ انسانوں کی طرف ہر وقت تبدیل ہو تا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ ظہور صفات سے ہم آہنگی قائم رکھنے کیلئے انسان کو زاویہ بدلنا پڑے گا۔گھوڑے کو سدھانے والا ایک چکر میں کھڑا ہو جاتا ہے اور گھوڑے کی رسی پکڑ کر خود چاروں طرف گھومتا ہے۔گھوڑے کو بھی اسکے سامنے گھومنا پڑتا ہے۔مرکزی شے کے گھومنے کا دائرہ بہت چھوٹا بلکہ عین مرکز میں صفر کے برابر ہوتا ہے مگر پہلوؤں پر کھڑے ہوئے گھوڑے کو رسی کے برابر لمبافاصلہ طے کر کے چاروں طرف دوڑنا پڑتا ہے اور اس میں اسکے فن میں کمال پیدا کرنے کا راز مخفی ہے۔خدا تعالیٰ اپنا پہلو ہر وقت بدلتا ہے۔انسان کو اس کے پہلو بدلنے کے ساتھ اپنا قدم بڑھانا پڑتا ہے تاخد اتعالیٰ سے ہم آہنگی قائم رہے۔یہ تغیر خدا تعالیٰ کے ساتھ انسانی تعلق میں تغیر پیدا نہ ہونے دینے کیلئے ضروری ہے اور اس تغیر سے انسان انسانیت کے