مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 525
525 جب اسلام غالب آئے گا تو ہر قومیں ابتلاؤں اور مصائب کی تلواروں کے سایہ میں بڑھتی ہیں انسان اس بات میں فخر محسوس کرے گا کہ وہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرے۔لیکن جب تک اسلام غالب نہیں آتا ہمیں بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں گی اور اپنے نفسوں کو مارنا ہو گا۔جب تک ہم اپنے نفسوں کو مار کر موجودہ رسم و رواج کے خلاف اپنے آپ کو نہیں ابھار میں گئے دریا کی دھار کے خلاف تیرنے کی کوشش نہیں کریں گے ، ملامت کی تلوار کے نیچے ہنسی اور مذاق کی تلوار کے نیچے سیاسی لوگوں کے سیاسی اعتراضات کی تلوار کے نیچے ، مذہبی اور فلسفی لوگوں کے اعتراضات کی تلوار کے نیچے سر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، اس وقت تک اس عظیم الشان مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں امید نہیں رکھنی چاہئے۔دنیا میں آج تک کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے میٹھی میٹھی باتوں سے دنیا کو فتح کر لیا ہو۔قومیں ہمیشہ مصیبتوں اور ابتلاؤں کی تلواروں کے سایہ تلے بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں اور انہیں لوگوں کے اعتراضات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔پس اپنے آپ کو اس فتح کا اہل بناؤ۔جب تک آپ لوگ خدا اور اس کے رسول کے دیوانے نہیں بن جاتے۔جب تک موجودہ فیشن اور رسم و رواج کو کچلنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے ، اس وقت تک اسلامی احکام کو ایک غیر مسلم کبھی بھی قبول کرنے کے لئے تیار میں ہو گا۔انگلینڈ سے مجھے ایک غیر مسلمہ کا خط آیا۔وہ احمدی تو ہو چکی ہے مگر تعلیم ابھی کم ہے۔وہ ہمارے مبلغ کے متعلق لکھتی ہے کہ جب میں ان کے لیکچر میں جاتی ہوں تو جو کچھ وہ کہتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ ناممکن ہے اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔مگر جب میں ان کے جوش اور ان کے چہرہ کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے اور میرا دل تسلی پا جاتا ہے کہ آخر یہ ہو کر رہے گا۔غرض جب لوگ ہمارے عزم کو دیکھ کر اپنے اندر جوش اور سنجیدگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہمارے اندر تمجید گی اور جوش دیکھیں گے تو انہیں خود بخود مانے پر مجبور ہو جائیں گے۔پس پہلے اپنے اندر جوش اور سنجیدگی پیدا کرنی چاہئے۔پھر ہم دوسروں کی توجہ کو بھی پھیر سکیں گے اور وہ سمجھ لیں گے کہ اسلام کی باتیں کچی ہیں اور وہ ان پر کچے دل سے غور کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور پھر اسلام اس مقام پر پہنچ جائے گا جس پر آج سے تیرہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ علیم نے اسے پہنچایا تھا"۔فرموده ۷ اگست ۱۹۴۸ء۔مطبوعہ الفضل || اکتوبر۱۹۶۱ء)