مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 526

526 جب تک ہم دعا کی اہمیت کو نہ سمجھیں گے ہم کامیاب نہ ہو سکیں گے! جماعت کے دوستوں کو خصوصانو جوانوں کو نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے "۔غرض اپنے کاموں کے علاوہ ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اے خدا! جس حد تک ہماری دعا کی اہمیت طاقت تھی ہم نے کوشش کی اب تو ہی اس کام کو پورا کر دے کیونکہ یہ کام اب ہماری طاقت ، سے باہر ہے۔تم پہلے فرائض کو ادا کرنے کی طرف توجہ کرو۔اگر تم دعا کرتے رہو تو مجھے کسی خطبہ کی ضرورت کی نہیں۔اگر تمہارے اندر کمزوریاں اور خامیاں ہیں اور تم دعا کرتے ہو کہ خدایا ! تو ان کمزوریوں اور خامیوں کو دور کر دے تو تمہاری دعا ہی ان کو دور کر دے گی۔اگر تم نمازوں میں کمزور ہو اور تم دعا کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری اس کمزوری کو دور کرے اور تمہارے اندر اس کمزوری کا احساس پایا جاتا ہے تو خد اتعالیٰ تمہاری کمزوری کو دور کر دے گا اور تم خود بھی نمازوں میں پابندی اختیار کرو گے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی مدد اس وقت ہی آئے گی جب تم خود بھی اپنے اندر تغیر پیدا کر و۔اگر تمہارے اندر جوش اور اخلاص ہے اور پھر تم دعا کرتے ہو تو جوش اخلاص اور دعا پر یقین پیدا کرو تم کامیاب ہو جاؤ گے ورنہ کامیابی تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے اندر جوش اخلاص اور دعا پر یقین پیدا کر و۔میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں خصوصاً نو جوانوں کو کہ وہ اپنے اندر دعا کرنے کی عادت پیدا کریں۔پرانے لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ دیکھا ہے اور ان کے اندر دعا کرنے کی عادت پائی جاتی ہے۔اب نوجوانوں کو بھی اپنے اندر یہ عادت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ کے سامنے رونے گریہ وزاری کرنے اور فریاد کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اگر وہ پورے اخلاص ، یقین اور جوش کے ساتھ ایسا کریں گے تو خداتعالی کی مدد آئے گی جو ان کی حالت کو بھی درست کر دے گی اور کامیابی کے رستے بھی ان کے لئے کھول دے گی"۔فرموده ۷ ادسمبر ۱۹۴۸ء مطبوعه الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۶۴ء)