مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 507
507 ہیں۔وہ بھی میری اس تحریک کو اپنے ہاں جا کر بیان کریں اور الفضل میں بھی یہ تقریر چھپ جائے گی۔جو لوگ پہلے اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکے وہ اب آگے آئیں اور اسلام کی ضرورت کو پورا کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے بچی کچھی چیز سے ہماری ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔جو کام ہم نے کرنا ہے اس کے لئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمی بھی تھوڑے ہیں اور ہمیں اسلام کی اشاعت کے لئے انہیں اسی طرح قربان کرنا پڑے گا جس طرح دانے بھوننے والا بھڑ، بھو نجا اپنی بھٹی میں پتے ڈالتا ہے۔جہاں آجکل محاسب کا دفتر ہے یہاں پہلے ایک بھڑ بھونجے کی بھٹی ہوتی تھی۔کبھی وہ خود دانے بھونتا تھا اور کبھی اس کی عورت دانے بھونتی تھی۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھڑ، بھو نجایا بھڑ بھو نجن دن بھر پتے جمع کرتے رہتے تھے اور پتوں کا ایک بہت بڑاڈھیر تیار کر لیتے تھے اور پھر نہایت بے تکلفی سے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بھٹی میں پتے ڈالتے جاتے تھے۔میں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو میں نے سمجھا کہ اس مثال سے کہ جس طرح تنور میں ایندھن ڈالا جاتا ہے یہ مثال زیادہ اچھی ہے کہ جس طرح بھڑ، بھونجا اپنی بھٹی میں پتے ڈالتا ہے۔چونکہ پتوں کی گرمی کم ہوتی ہے اور جلدی جل جاتے ہیں اس لئے بار باران کے ڈالنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔پس جس طرح بھڑ بھو نجا اپنی بھٹی میں پتے ڈالتا ہے اسی طرح ہمیں بھی اپنے آدمی دین کی بھٹی میں ڈالنے ہو نگے تب کہیں اسلام کامیاب ہو گا۔شاہجہان کی بیوی نے مرنے سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا جو اس نے شاہجہان کو سنادیا اور اس سے وعدہ لیا کہ مجھے ایسی جگہ دفن کرنا جو اس خواب کے مطابق ہو چنانچہ اس کی وفات پر بادشاہ نے انجینئروں کو بلایا اور سارا نقشہ ان کے سامنے بیان کیا۔انجینئروں نے کہا کہ ہم ایسی عمارت نہیں بنا سکتے اور نہ ہی ایسی عمارت دنیا میں بن سکتی ہے۔بادشاہ کو بہت صدمہ ہوا۔آخر ایران سے ایک نیا انجنیئر آیا۔بادشاہ نے اس سے ذکر کیا کہ میں اس قسم کی عمارت بنوانا چاہتا ہوں۔بن سکتی ہے یا نہیں ؟۔اس نے کہا ہاں بن سکتی ہے۔بادشاہ نے کہا کہ تمام انجیئر وں نے جواب دے دیا ہے۔وہ کہتے ہیں ایسی عمارت نہیں بن سکتی۔اس نے کہا وہ بھی درست کہتے ہیں اور میں بھی درست کہتا ہوں۔آپ مجھے کچھ دیر سوچنے کا موقعہ دیں اور مجھے اس جگہ لے چلیں جہاں آپ یہ عمارت بنوانا چاہتے ہیں۔میں وہ جگہ دیکھ کر فیصلہ کر سکوں گا کہ عمارت بن سکے گی یا نہیں۔بادشاہ نے اسے بتایا کہ میں دریا کے دوسرے کنارے فلاں جگہ عمارت بنوانا چاہتا ہوں۔اس نے بادشاہ کو کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس جگہ چلوں گا۔آپ کشتی میں دولاکھ روپے کی ہزار ہزار کی تھیلیاں بھی رکھ لیں چنانچہ بادشاہ نے کشتی میں روپے رکھنے کا حکم دے دیا اور بادشاہ اور وہ انجنیئر اور خدام وغیرہ اس کشتی میں بیٹھ کر دوسرے کنارے کی طرف چل پڑے۔ابھی کشتی تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ انجیر نے ہزار روپے کی ایک تھیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی