مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 41

41 ہی نہیں۔تم کو آگ میں ڈالا ہی نہیں گیا۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا اور پھر وہ نہیں جلے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر حملے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالی ان کو تباہی سے بچاتا ہے تاوہ کہہ سکیں کہ ان کو تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔مگر وہ تباہ ہوئے نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دعویٰ کہ وہ آگ میں نہیں جلے ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔مگر تمہارا یہ کہنا کہ تم آگ میں نہیں جلے ایک پاگل کی بڑ سمجھی جائے گی۔کیونکہ تمہیں جلانے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے بادشاہ اور رعایا سب نے اکٹھے ہو کر کوشش کی۔اور آپ کو آگ میں ڈال کر جلانا چاہا۔مگر اللہ تعالی نے بارش نازل کر کے آگ کو بجھا دیا اور ایک ایسا نشان ظاہر کیا جس سے سب مخالف مرعوب ہو گئے۔اور انہوں نے اپنا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔مگر خد اتعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھا اور به آخری غلبہ ہی خدا تعالیٰ کا نشان ہوتا ہے۔اور یہ ہی ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو وہ عظمت اور شان حاصل ہے جو دو سروں کو نہیں اور یہ مقام کسی سے مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آئے اور اسے حاصل کرے۔پس یہ خیال مت کرو کہ یہ مقام محمد مصطفی ملی یا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے مخصوص ہے۔نبوت اور چیز ہے اور یہ مقام اور چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید حاصل کرنے کے لئے نبوت شرط اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت جذب کرنا يد اور نصرت جذب کرنا نہیں بلکہ یہ کامل مومن کو حاصل ہو سکتی ہے۔دیکھو حضرت امام حسین نبی نہ تھے اور بظاہر ان کو یزید کے مقابلہ میں شکست بھی اٹھانی پڑی۔یزید اس وقت تمام عالم اسلام کا بادشاہ تھا اور اس وقت چونکہ تمام متمدن دنیا پر اسلامی حکومت تھی اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام دنیا کا بادشاہ تھا۔اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک دنیا پر اس کے رشتہ داروں کی حکومت رہی اور اس وقت منبروں پر حضرت علی اور آپ کے خاندان کو گالیاں دی جاتی تھیں۔یزید کو اتنی بڑی حکومت حاصل تھی کہ آج کل کسی کو حاصل نہیں۔آج انگریزوں کی سلطنت بہت بڑی سمجھی جاتی ہے۔مگر ذرا مقابلہ تو کریں بنو امیہ کی حکومت سے جن کے خاندان کا ایک فرد یزید بھی تھا، انگریزوں کی حکومت کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔فرانس سے شروع ہو کر چین ، مرا کو الجزائر ، طرابلس اور مصر سے ہوتی ہوئی عرب ہندوستان ، چین افغانستان ایران روس کے ایشیائی حصوں پر ایک طرف اور دوسری طرف ایشیائے کو چک سے ہوتے ہوئے یورپ کے کئی جزائر تک یہ حکومت پھیلی ہوئی تھی۔اس قدر وسیع سلطنت آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔موجودہ زمانہ کی دس پندرہ سلطنتوں کو ملا کر اس کے برابر علاقہ بنتا ہے۔اور اتنی بڑی سلطنت کا ایک بادشاہ ہو تا تھا۔جن میں سے قریباً ہر ایک حضرت علی اور آپ کے خاندان کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔اس لئے منبروں پر کھڑے ہو کر ان کو گالیاں دی جاتی تھیں اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ ساری دنیا میں امام حسین کی عزت پھر قائم ہو گی۔اور اس وقت کوئی و ہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یزید