مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 486
486 سے انجمن میں درخواستیں جانی شروع ہو جاتی ہیں کہ ہمیں اس دفتر سے بدلا جائے۔وہ سمجھتے ہیں ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ سور ہیں اور مہینہ کے بعد تنخواہ لے لیں۔میرے نزدیک اس صورت حالات کی وجہ سے ناظروں پر بھی حرف آتا ہے۔اگر ناظر اپنے کارکنوں سے صحیح طور پر کام لیتے تو ان میں یہ احساس ہی کیوں پیدا ہو تاکہ ہمیں اس دفتر سے فلاں دفتر میں بدل دیا جائے۔یہاں کام زیادہ ہے اور وہاں کام تھوڑا ہے۔پھر تو وہ سمجھتے کہ یہ بلا ہر جگہ مسلط ہے اور ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم محنت سے کام کریں۔حقیقت یہ ہے کہ کام سے بھاگنا اور گریز کرنا یہ ایک عام عادت ہمیں نوجوانوں میں نظر آتی ہے۔جب تک اس عادت کو دور نہیں کیا جائے گا جب تک اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جائے گا جب تک اپنے مقام کے احساس کا مادہ اپنے اندر پیدا نہیں جائے گا ، تب تک ہماری جد و جہد کبھی اعلیٰ نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔لیکن جب یہ چیزیں پیدا ہو گئیں تو دینی تغیر تو پیدا ہی ہو گا، دنیوی حالتیں بھی خود بخود بدلنی شروع ہو جائیں گی۔یہ امریا د رکھو کہ نکمی قوم دنیا کے پردہ پر کبھی کوئی عزت حاصل نہیں کر سکتی۔وہ چیز جس کی عام طور پر لوگ خواہش رکھتے ہیں یعنی دنیوی شان و شوکت اس کا چاہنا عیب ہے۔لیکن یہ امر قطعی طور پر ناممکن ہے کہ اگر اسلام کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو وہ چیز تمہیں میسر نہ آئے۔بے شک اس کا چاہنا عیب ہے مگر اس کا منالازمی ہے۔آج تک کسی نبی کی قوم نے بھی یہ نہیں چاہا کہ اسے دنیوی شان و شوکت مل جائے لیکن اگر وہ قوم صحیح طور پر نبی کی قوم بن جائے تو اسے یہ چیز بھی ضرور مل جاتی ہے۔بے شک ایک قوم اس وقت گنگار ہو گی جب وہ خود اپنی زبان سے دنیا کی بادشاہت طلب کرے لیکن جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتی اور اپنے نفوس کو اس کی راہ میں قربان کر دیتی ہے تو خدا تعالی یہ دکھانے کے لئے کہ میں قادر خدا ہوں ، دنیا کی بادشاہتیں بھی ان کے سپرد کر دیتا ہے۔سید ر القادر صاحب جیلانی کے متعلق لکھا ہے کہ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا کہ آپ اچھے کھانے کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں کبھی کھانا نہیں کھاتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبد القادر تجھے میری ذات ہی کی قسم ہے تو یہ کھانا کھا اور میں اچھے کپڑے نہیں پہنتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبد القادر تجھے میری ذات ہی کی قسم ہے تو یہ کپڑا پہن۔حقیقت یہ ہے کہ جب ایک انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو وہ چیز جو اس نے خدا کے لئے چھوڑی ہوتی ہے اسے خدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے اور اس وقت اس کا چھو ڑنا گناہ ہو تا ہے جیسے پہلے اس کا مانگنا گناہ ہو تا ہے۔اگر تم اس چیز کو چرانا چاہتے ہو تو یہ ایک نقص ہوگا کیونکہ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ تمہیں یہ چیز خلعت کے طور پر عطا کرے اور یقیناوہ دن آئے گا اور ضرور آئے گا جب یہ چیز تمہارے ہاتھ میں ہو گی۔خواہ یہ دن تمہارے لئے آئے یا تمہاری نسلوں کے لئے مگر تم تو درخت ہونے میں آتے ہی نہیں کہ تم اس کا پھل کھا سکو۔کہتے ہیں ایک بادشاہ کسی بڑھے کے پاس سے گزرا اور اس نے دیکھا کہ وہ ایک ایسا درخت لگا رہا ہے جو بہت دیر سے پھل لاتا ہے۔بادشاہ حیران ہوا اور اس نے بڑھے سے مخاطب ہو کر کہا میاں بڑھے ! تم کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔تمہاری ستر اسی سال عمر ہے۔تم آج نہ مرے کل مرے۔زیادہ سے زیادہ جئے بھی تو پانچ سال زندہ رہو گے عبدا