مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 483
483 اپنے شعر سناتا تو لوگ ہال کھیلنے اور ناچنے اور سرمار نے لگ جاتے۔تم اس کو بناوٹ ہی کہو مگر وہ اتنا تو کہہ سکتے تھے کہ ہمارے شعروں میں یہ اثر ہے کہ لوگ ناچتے اور سرمار نے لگ جاتے ہیں لیکن آج کل شعروں میں کیا ہو تا ہے صرف لفاظی اور لفاظی اور لفاظی اور لفاظی۔میں نے پچھلی دفعہ سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا تھا کہ تم عملی رنگ میں کام کرو اور دنیا کے سامنے اپنے کام کا نمونہ پیش کرو۔اس وقت یورپ تو الگ رہا ہندوؤں میں بھی تم سے بہت زیادہ چستی اور بیداری پائی جاتی ہے اور وہ بہت زیادہ اپنی تنظیم کی طرف متوجہ ہیں۔مگر تم نے س طرف توجہ نہیں کی حالانکہ عمل کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی قوم کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔میرے پاس رپورٹ کی گئی ہے کہ خدام الاحمدیہ کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ انڈر نر شڈ Under nourshed ہیں یعنی ان میں سے بہت سے نوجوان مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے کمزور ہیں۔مگر انڈر نر شڈ کے یہ معنی نہیں کہ انہیں غذا کافی نہیں ملتی بلکہ در حقیقت اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کی غذا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوتی۔میں نے بہت مطالعہ کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اکثر موٹے آدمی بہت ہی کم غذا کھایا کرتے ہیں۔جب بھی میں نے تحقیق کی ہے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ دیلے آدمی زیادہ کھاتے ہیں اور موٹے آدمی کم۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موٹے آدمی کے معدہ میں ایسا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے کہ جب غذا اندر جاتی ہے تو انسانی جسم کی مشینری اس غذا کو شکر میں تبدیل کر دیتی ہے اور اس طرح اسے دوسروں کی نسبت بہت کم غذا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔پس کمزوری کی اصل وجہ غذا کی قلت نہیں بلکہ اس کا بہت بڑا تعلق انسان کی قوت ہاضمہ کے ساتھ ہے۔اگر کسی شخص کے معدہ میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ روٹی چاہے کس قدر کھائے فضلہ زیادہ پیدا ہو تا ہے تو وہ دس روٹیوں سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکے گا جتنا دوسرا شخص صرف ایک روٹی کھا کر اٹھالے گا۔یہ چیزیں ایسی ہیں جن کا انسان کی قوت ہاضمہ کے ساتھ تعلق ہے۔پھر بہت کچھ نشاط اور عزم سے بھی یہ امور تعلق رکھتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی غذا سے بھی انسان میں نہایت اعلیٰ درجہ کی قوت عملیہ پیدا ہوتی ہے۔اگر غذا کے ساتھ ورزش رکھی جائے اور پھر غذا کے استعمال کے وقت بشاشت اور نشاط کو قائم رکھا جائے تو غذا ایسے طور پر جزو بدن ہوتی ہے کہ انسان کے تمام قومی میں ایک طاقت محسوس ہونے لگتی ہے جسے ہمارے ملک میں انگ لگنا کہتے ہیں اور یہ چیز اس کی ترقی اور راحت کا موجب ہوتی ہے۔پس غذا کے صحیح نہ ملنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ لوگوں کو غذا کی کمی کی شکایت ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ انہیں غذا کے استعمال کا صحیح طریق معلوم نہیں۔اگر صحیح طور پر غذا کھائی جائے تو تھوڑی سے تھوڑی غذا بھی انسان کے اندر بہت بڑی قوت عملیہ پیدا کر دیتی اور اس کے قلب میں نئی امنگ اور نیا جوش بھر دیتی ہے۔صحابہ کو کون سی غذا ملتی تھی۔بہت سے صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں کبھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملی۔اس کے مقابلہ میں دیکھ لو یہاں کتنے لوگ ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں آتا۔یہاں شائد چند گھر ایسے ہوں تو ہوں جو کبھی ناواقفی کی وجہ۔