مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 473
473 آپ زمہ دار تھے۔اسلام ذمہ دار نہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ان باتوں کو معلوم کر کے بھی مسلمانوں کے دلوں میں معمولی سی گدگدی بھی پیدا نہیں ہوتی۔” جب اسلام کی حالت ایسی کمزور ہے مسلمانوں کی کمزور حالت ہمیں دعوت عمل دے رہی ہے اور تم اپنی آنکھوں سے یہ چیز دیکھ رہے ہو تو کون سا سبق باقی ہے جو تم سیکھنا چاہتے ہو۔کیا زمین نے تمہیں سبق نہیں سکھایا۔کیا آسمان نے تمہیں سبق نہیں سکھایا۔کیا ارد گرد کے ہمسایوں نے تمہیں سبق نہیں سکھایا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ چاروں طرف ہمارے نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔مگر لوگ اندھے ہو کر چلتے ہیں۔تم ہی بتاؤ کہ کونسی سیکھنے والی بات رہ گئی ہے اور کیوں تمہارا اقدم عمل کی طرف نہیں اٹھتا۔کس دن کا تمہیں انتظار ہے۔میں حیران ہوں کہ جو لوگ اپنے وقتوں اور جائیدادوں کی قربانیاں نہیں کر سکتے وہ اپنے نفوس کی قربانیاں کس طرح پیش کر دیں گے۔یہ بات یا د رکھو کہ قومی عزت بغیر قربانیوں کے قائم نہیں ہو سکتی۔وہ لوگ جنہیں اپنی قومی عزت کا خیال نہیں اور وہ لوگ جن میں قومی غیرت موجود نہیں وہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔وہ دنیا میں ایسے ہی پھرتے ہیں جیسے گائیں اور بھیڑیں پھرتی ہیں۔وہ لوگ اپنی قوم کے لئے کسی فائدے کا موجب نہیں"۔" الله ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانیاں کرنے کیلئے تم احمدیت میں شامل ہوئے ہو تعالی سب سے زیادہ وفادار ہے۔جو شخص اس سے وفاداری کرتا ہے اللہ تعالیٰ کبھی اس سے بے وفائی نہیں کرتا۔پس اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بننا چاہتے ہو تو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔تم لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہوئے ہو۔اس لئے نہیں کہ مل کر دعوتیں اڑاؤ اور عیش و عشرت کے دن بسر کرو بلکہ تم لوگ اس لئے آگے آئے ہو کہ ہم اسلام کے لئے قربانیاں کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا واحد مقصد قرار دیں گے۔تم اس سلسلہ میں اس لئے نہیں داخل ہوئے کہ مائدے پر بیٹھ کر تھے اڑاؤ بلکہ تم اس لئے اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہو کہ ہم ایک دو سرے سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کریں گے اور اسلام کی حکومت کو دنیا بھر میں از سر نو قائم کریں گے۔پس اپنے اس عہد کو ہمیشہ مد نظر رکھو۔اگر تم اپنے عہد کو پورا کرتے جاؤ تو دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی تمہارے رستے میں روک نہیں بن سکتیں۔کیونکہ جب تم اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ گے تو پھر اللہ تعالیٰ خود تمہارے لئے کامیابی کے سامان پیدا کرے گا اور تمہارے لئے کامیابی کے رستے کھول دے گا۔باتوں کا زمانہ گزر گیا اور اب باتوں کا زمانہ نہیں بلکہ عمل کرنے کا زمانہ یہ عمل کرنے کا زمانہ ہے ہے۔اللہ تعالیٰ اب دیکھنا چاہتا ہے کہ ان بڑے بڑے دعووں کے بعد تم کتنے قطرے خون دل کے اس کے حضور میں پیش کرتے ہو۔دنیا کے بادشاہ موتیوں اور ہیروں کی نذریں قبول کرتے