مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 474
474 ہیں مگر زمین و آسمان کا مالک اور سب بادشاہوں کا بادشاہ یہ دیکھتا ہے کہ کتنے قطرے خون دل کے کوئی شخص ہمارے حضور پیش کرتا ہے۔ہمارے خدا کے دربار میں ہیروں اور موتیوں کی بجائے خون دل کے قطرے قبول کئے جاتے ہیں۔دنیا کی قومیں تو اسی زندگی کو ہی اپنا مقصود قرار دیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بندوں کا اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ ان کی حقیقی اور نہ مٹنے والی زندگی اگلے جہان سے شروع ہو گی اس لئے وہ موت سے نہیں ڈرتے "۔۔۔۔۔۔پس ہماری خوشی اور ہماری راحت اسی بات " ظاہری گند سے روحانی گند زیادہ خطرناک ہے میں ہے کہ ہم اللہ تعالی کے ہو جائیں اور اسی کے لئے زندگی بسر کریں۔بے شک تمہارا یہ کام بھی ہے کہ تم گلیوں اور شہروں کو صاف کرو۔لوگوں کے آرام کا باعث نو لیکن اس ظاہری گند سے روحانی گند زیادہ خطرناک ہے۔اہل مغرب نے ظاہری صفائی پر بہت زور دیا اور جسمانی صفائی کے بہت سے انتظام کئے ہیں لیکن روحانی صفائی کا علاج ان کے پاس نہیں۔جسمانی گند سے جسم مرتا ہے لیکن روحانی گند سے روح مرجاتی ہے اور یہ چیز قابل برداشت نہیں کیونکہ روح کے مرنے سے انسان دائمی طور پر جہنمی بن جاتا ہے۔جسمانی گند کا اثر روحانی گند کے مقابلہ میں بہت محدود ہوتا ہے۔پس تم بے شک ظاہری صفائی کا بھی خیال رکھو لیکن اس سے زیادہ فکر تمہیں روحانی گند کو دور کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔اس روحانی گند کو دور کرنے کی کوشش کرو اور قربانی کے معیار کو بہت بلند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔دو سری مسلمان دنیا اگر اسلام کے پھیلانے میں کو تاہی سے کام لیتی ہے تو وہ اتنی مجرم نہیں جتنے تم مجرم ہو کیونکہ تم یہ دعوی کرتے ہو کہ ہم خدام احمدیت ہیں اور ہمارے ذریعہ اسلام تمام دنیا پر غالب آئے گا۔خدا تعالٰی کے کام تو ہو کر رہیں گے لیکن اگر تم نے اپنے فرائض کو سرانجام نہ دیا تو پھر تم خدا تعالیٰ کے سامنے کچے خادموں کی حیثیت میں پیش نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے عمل تمہارے دعووں کو جھوٹا کر کے دکھا رہے ہوں گے۔پس اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو اور وہ تبدیلی ایسی ہو کہ ہر کس و ناکس کو معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ اب کوئی نئی چیز بن گئے ہیں۔اب باتیں کرنے اور سننے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔اب اس بات کی ضرورت ہے کہ باتیں کم کی جائیں اور اپنی تنظیم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔یہ اللہ تعالٰی کی سنت ہے کہ انبیاء کی انبیاء کی جماعتوں کی مخالفت اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جماعتوں کی مخالفتیں ہوتی ہیں اور ان کو سخت سے سخت مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔وہی سنت ہمارے لئے جاری ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم ملی الی تک جو سلوک باقی انبیاء کی جماعتوں سے ہو ا ر ہی ہم سے ہو گا۔اللہ تعالٰی حضرت آدم کا دشمن نہ تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت نوح کا دشمن نہ تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کا دشمن نہ تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور عیسی کا دشمن نہ تھا۔اللہ تعالیٰ رسول کریم میل ل ل ا للہ کا دشمن نہ تھا اور ہمارا رشتہ دار نہیں کہ ہم ان تکلیفوں سے بیچ جائیں۔جب تک تم آگ کی بھٹی میں ڈالے نہیں جاتے اور آروں سے چیرے نہیں جاتے اس وقت تک تم