مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 463

463 دوں گا۔انعام کے شوق میں اس نے عشاء کی نماز سے باجماعت نماز پڑھنی شروع کی اور اگلے دن عشاء کے وقت اسے دو روپے ملنے تھے۔اس وقت چونکہ مہمان تھوڑے ہوتے تھے۔ان کے لئے ہمارے گھر میں کھانا تیار ہو جاتا تھا اور پیرا کھا نالا کر مہمانوں کو کھلا دیتا تھا۔اگلے دن اس نے پانچ نمازیں پوری کر کے انعام لینا تھا۔وہ مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ رہا تھا کہ اندر سے خادمہ نے آوازیں دینی شروع کیں کہ پی یا کھانا لے جا۔چار پانچ دفعہ جو اس نے آواز دی اور پیرا نہ بولا تو آخر خادمہ نے کہا اچھا میں جا کر بی بی جی سے کہتی ہوں۔اس پر پیرا نماز میں ہی بول پڑا اور کہنے لگا ذرا ٹھہر جا اکو رکعت رہ گئی ہے۔ہنے آیا۔یعنی ذرا ٹھہر جا ایک ہی رکعت رہ گئی ہے۔ابھی آتا ہوں۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے اسے کہا کہ نماز میں نہیں بولنا چاہئے۔اس طرح نماز ٹوٹ جاتی ہے۔وہ حیران ہو کر کہنے لگا اچھا اتنی بات سے بھی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔گویا یہ بات اس کے لئے حیرت انگیز تھی کہ بولنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبد الکریم صاحب کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ہوئے کہاں سے کہاں نکل گئے۔اسی طرح ہم رسول کریم ملی الم کے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے ذہن کے مطابق روحانیت سے حصہ پاتا تھا اور اپنے ذہن کے مطابق رسول کریم می داریم کی صحبت سے فائدہ حاصل کرتا تھا۔حضرت ابو ہریرہ جو حدیث کے سب سے بڑے راوی ہیں ، تفقہ میں کمزور تھے لیکن روایت بیان کرنے میں ان کا حافظہ خوب کام کرتا تھا۔اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی روایات بہت کم ہیں لیکن وہ اپنی ذہنی تیزی کی وجہ سے ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔پس ذہنی تیزی ایک بڑی نعمت ہے۔جو لڑ کے ذہین ہوتے ہیں وہ اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ ان کے والدین کس مشکل کے ساتھ ان کا خرچ برداشت کرتے ہیں۔اس لئے وہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے والدین کا روپیہ ضائع نہ ہو اور وہ پورے زور کے ساتھ محنت کرتے ہیں اور اچھے نمبروں پر پاس ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو لڑ کے کند ذہن ہوتے ہیں انہیں کچھ بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے والدین کس طرح پیٹ پر پتھر باندھ کر اور دوسرے بعض بھائیوں کا حق چھین کر انہیں دے رہے ہیں۔وہ کھیل کود میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔سہ ماہی میں فیل ہوتے ہیں تو ششماہی میں پاس ہونے کا ارادہ کرتے ہیں۔ششماہی بھی بغیر تیاری کے گزر جاتی ہے تو سالانہ امتحان کے نزدیک آکر بالکل دل چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کیا کریں ہمیں تو کچھ آتا ہی نہیں۔والدین اس کے لئے فاقے کاٹتے ہیں اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ پڑھائی میں ان کا دل ہی نہیں لگتا۔ہمارے ملک کے گزارے کتنے قلیل ہیں۔ان قلیل گزاروں میں سے بھی بچا کر والدین ان کو پڑھائی کے لئے خرچ دیتے ہیں مگر پھر بھی وہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ہمارے ملک کی مالی حالت اتنی گری ہوئی ہے کہ میرے خیال میں اور کسی ملک کی مالی حالت ایسی گری ہوئی نہ ہوگی۔یورپین ملکوں کے مزدور بھی ہمارے ای۔اے۔سہی سے زیادہ تنخواہ لیتے ہیں لیکن اگر یہاں کوئی ای۔اے۔سی ہو جائے تو اس کا قدم زمین پر نہیں پڑتا۔نتھنے پھلا پھلا کر چلتا ہے اور ہر انسان کو قہر آلود نگاہوں