مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 462

462 دنیا میں ہمیشہ ذہین اور ہوشیار ہی اعلیٰ ذہین نوجوان دین و دنیا میں زیادہ ترقی کر سکتے ہیں کارنامے سرانجام دیا کرتے ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں ذہانت ان کے لئے نئے نئے رستے کھول دیتی ہے۔ذہین آدمی اپنی اور اپنی قوم کی مشکلات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور جوں جوں انسان کی ذہانت ترقی کرتی ہے اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس زیادہ ہوتا جاتا ہے۔پھر یہ بات بھی تجربہ میں آئی ہے کہ کہ ذہین لوگ ہی دین میں بھی زیادہ ترقی کرتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں آپ کا ایک نوکر پیرا ہو تا تھا۔وہ پالم پور کا رہنے والا تھا۔اس کے رشتہ دار اسے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے کر آئے کیونکہ اسے گنٹھیا کی بیماری تھی۔اس سے پہلے وہ اسے بعض حکیموں کے پاس لے کر گئے تو وہ بڑی بڑی فیسیں مانگتے تھے اور وہ دے نہ سکتے تھے۔آخر کسی نے انہیں بتایا کہ اسے مرزا صاحب کے پاس لے جاؤ۔وہ روٹی بھی دیں گے اور علاج بھی کریں گے۔چنانچہ اس کے رشتہ دار سے آپ کے پاس چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج شروع کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔ایک دو سال کے بعد اس کے رشتہ دار اسے لینے کے لئے آئے تو اس نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب میں بیمار تھا اس وقت تو تم پھینک کر چلے گئے اور اب جب کہ میں کام کاج کے قابل ہو گیا ہوں تم مجھے واپس لے جانا چاہتے ہو۔جس نے میرا علاج کیا اور جس نے مجھے کھانا کھلایا وہی میرا اصل رشتہ دار ہے۔میں تمہارے ساتھ نہیں جاتا۔اس میں عقل اتنی کم تھی کہ وہ کہا کرتا تھا کہ سرسوں کے تیل اور مٹی کے تیل میں کیا فرق ہوتا ہے۔وہ بھی تیل ہے اور یہ بھی تیل ہے۔چنانچہ وہ مٹی کا تیل دال میں ڈال کر کھا لیتا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ ایک لمبا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہاویسا ہی کو رے کا کو را رہا۔اس کے ذہن کی یہ حالت تھی کہ اسے کوئی بات یاد ہی نہ رہتی تھی۔اسے اپنی وفات تک بھی نماز پڑھنی نہیں آئی تھی حالانکہ وہ پچیس تیس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہا۔وہ باہر سے جو مہمان آتے تھے انہیں صبح و شام کھانا کھلایا کرتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کو اسے نماز پڑھوانے کا بہت شوق تھا کیونکہ آپ یہ ناپسند فرماتے تھے کہ ایک بے نماز شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈیوڑھی پر بیٹھے۔آپ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح وہ نماز پڑھنے لگ جائے تاکہ لوگوں پر برا اثر نہ ہو۔آپ نے ایک دن اسے فرمایا کہ پیرے نماز پڑھا کرو۔کہنے لگا میں کیا کروں مجھے نماز یاد ہی نہیں ہوتی۔آپ نے فرمایا اچھا تم صرف سبحان اللہ سبحان اللہ ہی کہتے رہا کرو۔ایک دفعہ آپ نے اسے نماز کی عادت ڈالنے کے لئے فرمایا کہ اگر تم پانچ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھ لو تو میں تمہیں دو روپے انعام