مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 460
460 فرمایا :۔نوجوانوں کو مستعدی سے کام کرنا چاہئے ” میں نے گزشتہ ایام میں یہاں کی مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کو ایک جھگڑے کے متعلق تحقیقات کرنے کے لئے کہا تھا۔آج پانچ دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک مجھے ان کی طرف سے کوئی رپورٹ نہیں ملی۔ہمارے نوجوانوں میں دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کرنے کی عادت ہونی چاہئے کیونکہ ہمارے پاس آدمی تھوڑے ہیں اور کام بہت زیادہ ہے۔ہمارا کام صحیح طور پر تبھی چل سکتا ہے جب کہ ہمارا ایک آدمی کئی کئی آدمیوں کا کام سنبھال لے۔اگر اس طرح ستی سے کام کئے جائیں تو کئی قسم کے نقصانات کا احتمال ہو سکتا ہے۔فرض کرو کسی کے ہاں نقب لگے اور سراغ رساں کہے کہ میں تو دو تین دن کے بعد آؤں گا تو چوری کا کیسے پتہ لگ سکتا ہے۔وہ پیروں کے نشانات وغیرہ تبھی دیکھ سکتا ہے جب کہ وہ فور موقع پر پہنچ جائے لیکن وہ اگر کئی دن کے بعد موقع پر پہنچے تو کوئی سراغ نہیں لگا سکے گا۔پس ہمارے نوجوانوں کو جلدی جلدی کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور سستی اور غفلت کو ترک کرنا چاہئے۔فرموده ۲۸ مئی ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۲۳ ستمبر ۱۹۶۰ء)