مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 450

450 ” ہماری جماعت کو اب تجارت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔میں نے بار ہ بتایا ہے کہ تجارت ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بہت بڑا اثر و رسوخ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ہمارے دو نوجوان افریقہ گئے۔ایک کو ہم نے کہا کہ تمہیں خرچ کے لئے ہم پچیس روپے ماہوار دیں گے مگر دو سرے سے ہم نے کہا کہ تمہارے اخراجات برداشت کرنے کی ہمیں توفیق نہیں۔اس نے کہا۔توفیق کا کیا سوال ہے۔میں خود محنت مزدوری کر کے اپنے لئے روپیہ پیدا کرلوں گا۔سلسلہ پر کوئی بار ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ہم نے کہا یہ تو بہت مبارک خیال ہے۔اگر ایسے نوجوان ہمیں میسر آجائیں تو اور کیا چاہئے چنانچہ وہ دونوں وہاں گئے اور انہوں نے پندرہ روپیہ چندہ ڈال کر تجارت شروع کی۔اب ایک تازہ خط سے معلوم ہوا ہے کہ وہی نوجوان جنہوں نے پندرہ روپے سے تجارت شروع کی تھی اب تک ہزار روپیہ تبلیغی اخراجات کے لئے چندہ دے چکے ہیں اور اپنا گزارہ بھی اتنی مدت سے عمدگی کے ساتھ کرتے آرہے ہیں۔اسی قسم کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں اور اس ملک میں بعض نوجوان ہزار ہزار دو دو ہزار روپیہ کے ساتھ آئے اور اب وہ لاکھ لاکھ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کے مالک ہیں۔۔۔میں نے بڑی وضاحت سے جماعت کے نوجوانوں کو بار بار سمجھایا کہ دیکھو تمہیں بطور حق کے ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔تمہیں اپنے پاس سے کھانا کھانا پڑے گا۔تمہیں پیدل سفر کرنا پڑے گا۔تمہیں فاقے کرنا پڑیں گے۔تمہیں ماریں کھانی پڑیں گی۔تمہیں ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنی پڑیں گی اور تمہارا فرض ہو گا کہ ان تمام حالات میں ثابت قدم رہو اور استقلال سے خدمت دین میں مصروف رہو۔یہ سبق میں اپنے خطبات میں دہراتا اور بار بار دہراتا ہوں۔پھر میں اس پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ نوجوانوں کو خود انٹرویو کے لئے اپنے سامنے بلاتا ہوں اور کہتا ہوں دیکھو تم نے میرے خطبات تو پڑھ لئے ہوں گے۔اب پھر مجھ سے سن لو۔تمہیں کوئی پیسہ نہیں ملے گا۔کیا تمہیں منظور ہے۔وہ کہتے ہیں منظور ہے۔پھر کہتا ہوں تمہیں پیدل سفر کرنا پڑے گا اس کے لئے تیار ہو۔وہ کہتے ہیں پوری طرح تیار ہیں۔پھر کہتا ہوں تمہیں جنگلوں میں جانا پڑے گا کیا اس کے لئے تیار ہو۔وہ کہتے ہیں ہم جنگلوں میں جانے کے لئے بھی تیار ہیں۔پھر کہتا ہوں تمہیں فاقے بھی آئیں گے کیا تم فاقہ کے لئے تیار ہو۔وہ کہتے ہیں ہم فاقہ کے لئے بھی تیار ہیں۔میں کہتا ہوں تمہیں لوگوں سے ماریں کھانی پڑیں گی ، کیا تم اس کے لئے بھی تیار ہو۔وہ کہتے ہیں ہم ماریں کھانے کے لئے بھی تیار ہیں۔غرض یہ سب انہیں خوب یاد کرایا جاتا اور بار بار ان کے سامنے دہرایا جاتا ہے اس کے بعد جب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سبق ان کو خوب یا د ہو چکا ہو گا تو ہم کہتے ہیں جاؤ سندھ میں جو سلسلہ کی زمینیں ہیں ان پر کام کرو۔منشی کا کام تمہارے سپرد کیا جاتا ہے۔جاتے ہیں تو تیسرے دن مینجر کی طرف سے تار آجاتا ہے کہ منشی صاحب بھاگ گئے ہیں کیونکہ وہ کہتے تھے میرا دل یہاں نہیں لگتا۔کوئی ایک مثال ہو تو اسے برداشت کیا جائے دو مثالیں ہوں تو انہیں برداشت کیا جائے۔مگر ایسی کئی مثالیں ہیں کہ بعض نوجوانوں نے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنے کا عہد کرتے ہوئے اپنی زندگیاں وقف کیں مگر جب ان کو سلسلہ کے کسی کام پر مقرر کیا گیا تو بھاگ گئے محض اس لئے کہ تکالیف ان سے برداشت نہیں ہو سکتیں۔اس قسم کے مواد کو لے کر کوئی