مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 451
451 جرنیل کیا لڑ سکتا ہے۔آدمی کو کم از کم یہ تو تسلی ہونی چاہیے کہ میں بھی جان دینے کے لئے تیار ہوں اور میرا ساتھی بھی خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ بعض نوجوان اپنی زندگی وقف کرتے ہیں اور پھر ذرا سی محنت اور ذراسی تکلیف پر کام چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کو سرزنش کی جاتی ہے تو جماعتیں اس کو اپنے گلے سے لپٹا لیتی ہیں اور لکھتی ہیں کہ آپ کو اس کے متعلق کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ورنہ یہ آدمی بڑا مخلص ہے اور سلسلہ کے لئے بڑی قربانی کرنے والا ہے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جب ایسا شخص واپس آتا تو بیوی اپنے دروازے بند کر لیتی اور کہتی کہ میں تمہاری شکل دیکھنے کے لئے تیار نہیں۔بچے اس سے منہ پھیر لیتے اور کہتے کہ تم دین سے غداری کا ارتکاب کر کے آئے ہو ، ہم تم سے ملنے کے لئے تیار نہیں۔دوست اس سے منہ موڑ لیتے کہ ہم تم سے دوستی رکھنے کے لئے تیار نہیں ، تم نے تو موت تک اپنی زندگی سلسلہ کے لئے وقف کی تھی۔اب تم خود واپس نہیں آسکتے۔تمہاری روح ہی آسکتی ہے مگر روح بھی یہاں نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ کے حضور جائے گی اس لئے تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں مگر بعض جماعتیں ایسے لوگوں کو بڑے پیار سے گلے لگاتی اور سینہ سے چمٹانے لگ جاتی ہیں۔ہم جب بچے تھے تو حضرت (اماں جان) ہمیں کہانی سنایا کرتی تھیں کہ ایک جولاہا کہیں کھڑا تھا کہ بگولا اٹھا اور وہ اس کی لپیٹ میں اڑتے اڑے کسی شہر کے پاس آگر ا۔اس شہر میں ایک نیم پاگل بادشاہ رہا کرتا تھا اور اس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔کئی شہزادوں نے رشتہ کی درخواست کی مگر اس نے سب درخواستوں کو رد کر دیا اور کہا کہ میں اپنی لڑکی کی شادی کسی فرشتہ سے کروں گا جو آسمان سے اترے گا۔کسی اور کو رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں۔جوں جوں دن گزرتے گئے لڑکی کی عمر بھی بڑی ہوتی گئی۔ایک دن وہ جو لا ہا بگولے کی لپیٹ میں جو اس شہر کے قریب آکر ننگ دھڑنگ گرا تو لوگ دوڑتے ہوئے بادشاہ کے پاس گئے اور کہنے لگے۔حضور آسمان سے فرشتہ آگیا ہے۔اب اپنی لڑکی کی اس سے شادی کر دیں۔بادشاہ نے اپنی لڑکی کی جولا ہے سے شادی کر دی۔وہ پہاڑی آدمی تھا۔نرم نرم گدیلوں اور اعلیٰ اعلیٰ کھانوں کو وہ کیا جانتا تھا۔اسے سب سے بہتر یہی نظر آتا تھا کہ زمین پر ننگے بدن سوئے اور روکھی سوکھی روٹی کھائے مگر جب بادشاہ کا داماد بنا تو اس کی خاطر تواضع ہونے لگی۔نوکر کبھی اس کے لئے پلاؤ پکا ئیں۔کبھی زردہ پکائیں۔کبھی مرغا تیار کریں۔پھر جب بستر پر لیٹے تو نیچے بھی گریلے ہوتے اور اوپر بھی اور کئی خادم اسے دبانے لگ جاتے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے آیا۔ماں نے اسے دیکھا تو گلے سے چمٹالیا اور رونے لگی کہ معلوم نہیں اتنے عرصہ میں اس پر کیا کیا مصیبتیں آئی ہوں گی۔جولاہا بھی چیچنیں مار مار کر رونے لگ گیا اور کہنے لگا۔اماں میں تو بڑی مصیبت میں مبتلا رہا۔ایک ایک دن گزارنا میرے لئے مشکل تھا۔کوئی ایک تکلیف ہو تو بیان کروں۔میرے تو پور پور میں دکھ بھرا ہوا ہے۔اماں کیا بتاؤں مجھے صبح شام لوگ کیڑے پکا کر کھلاتے (چاول جو اسے کھانے کے لئے دیئے جاتے تھے ، ان کا نام اس نے کیڑے رکھ دیا) پھر وہ نیچے بھی روئی رکھ دیتے اور اوپر بھی اور مجھے مارنے لگ جاتے یعنی دبانے کو اس نے مارنا قرار دیا۔اس طرح ایک ایک کر کے اس نے سارے انعامات گنانے شروع کئے۔ماں