مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 435

435 فرمایا۔اسے سنگسار کر دو لیکن آپ نے خود اسے سنگسار نہیں کیا بلکہ سمجھا کہ جب دوسرے لوگ اس کام کو کر سکتے ہیں تو میں کیوں اس فعل میں شریک ہوں۔پس رسول کریم می لی مین نے کسی قتل میں حصہ نہیں لیا خواہ وہ جائز تھا کیو نکہ اصولی طور پر انسان کی جان لینا منع ہے۔پس اخلاق میں سے بعض اصولی ہوتے ہیں اور بعض فروعی۔جو اخلاق اصولی طور پر برے ہوں وہ ہر حالت میں برے ہیں۔خواہ وہ بعض حالات میں جائز بھی ہو جائیں لیکن پھر بھی کراہت کی حدود کے اندر رہتے ہیں۔جیسے قاتل کو قتل کرنایا زانی کو رحم کرنا۔گو ان کو قتل کرنا جائز ہے لیکن چونکہ اصولی طور پر انسان کو قتل کرنا برا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اعلیٰ اخلاق والے انسان کے نزدیک یہ اعمال مرغوب ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس شکایت کی گئی کہ فلاں باورچی لنگر خانہ کی تربیت و اصلاح چیزوں میں سے کچھ کھا جاتا ہے اور کچھ گھر لے جاتا ہے۔آپ یہ شکایت سن کر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کے پاس شکایت کی گئی کہ لنگر خانے کا باورچی کھانا کچھ خود کھا جاتا ہے اور کچھ گھر لے جاتا ہے۔آپ پھر بھی خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔پھر کچھ دنوں کے بعد اس کی شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ اتنا نیک ہو تا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسے کام پر لگا تا ہی کیوں ؟ آپ لوگ گرمی میں پنکھے کے نیچے بیٹھے ہوتے ہیں اور پانی میں برف ڈال کر پیتے ہیں اور وہ گرمی میں تنور میں جھونک رہا ہو تا ہے۔اس کے اندر ایسی عادات تھیں تبھی تو خدا نے اسے پکڑا ہوا ہے۔ہم اسے نصیحت تو کریں گے لیکن ” مرے کو مارے شاہ مدار " وہ تو پہلے ہی مرا ہوا ہے اسے اور کیا سزا دیں۔اسے تو اپنے افعال کی خود ہی سزا مل رہی ہے۔تو بعض افعال ایسے ہوتے ہیں جن میں اپنی ذات میں سزا پائی جاتی ہے اور ان افعال کے کرنے والوں کو سزا ملتی رہتی ہے۔اس قسم کی اخلاقی کمزوریوں کا ضرر چونکہ اس فعل کے کرنے والے تک ہی محدود رہتا ہے اور باقی لوگ اس کے ضرر سے محفوظ ہوتے ہیں اس لئے اس پر چشم پوشی بھی جائز ہے لیکن اگر ایسی اخلاقی کمزوری ہو جس سے دو سروں کو بھی نقصان پہنچتا ہو اور اس کے نقصان کا دائرہ وسیع ہو تو اس کے انسداد کے متعلق شریعت کا حکم ہے اسے فوراً روکا جائے اور اس کے کرنے والے کو سزا دی جائے۔ایسے اخلاق جن سے دوسروں کو ضرر پہنچتا ہے سب کے سب اصولی اخلاق کے تحت ہیں۔ان کے علاوہ فروعی اخلاق ہیں۔وہ چونکہ روزانہ بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان کو کون گن سکتا ہے۔یہ وہ افعال ہیں جن کے متعلق صوفیاء نے کہا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی بدیاں نچلے درجہ کے لوگوں کی نیکیاں ہوتی ہیں۔پس فروعی اخلاق تو حسب مراتب بدلتے چلے جاتے ہیں، ان کو گننا مشکل ہے۔صرف اصولی اخلاق گنے جاسکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر اصولی اخلاق کی کتاب بن جائے اور وہ کتاب سب خدام کو پڑھائی جائے اور کوشش کی جائے کہ وہ اسے اچھی طرح یاد کریں تو یہ چیز خدام کے لئے بہت مفید ہو سکتی ہے۔اگر اصولی اخلاق کا انسان کو علم ہو جائے تو فروعی اخلاق کے متعلق خود بخود واقف ہو جاتا ہے۔