مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 416

416 دوسری چیز محنت ہے۔اگر واقعہ میں احمدیت کی محبت ہوتی تو ضرور نوجوانوں کے اندر محنت کی بھی عادت ہوتی مگر ان کے کاموں میں محنت اور باقاعدگی سے کام کرنے کی عادت بالکل نہیں اور اگر کوئی کسی کو اچھی بات بھی کہہ دے تو وہ چڑ جاتا ہے کہ اس نے مجھے ایسی بات کیوں کی۔پس میں پھر ایک دفعہ خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مشورہ کر کے میرے سامنے تجاویز پیش کریں۔میں نے بھی اس پر غور کیا ہے اور بعض تجاویز میرے ذہن میں بھی ہیں لیکن پہلے جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ وہ مشورہ دیں کہ آئندہ نسلوں میں قربانی اور محنت اور کام کو بروقت کرنے کی روح پیدا کرنے کے لئے ان کی کیا تجاویز ہیں مگر یہ شرط ہے کہ جو شخص تجویز پیش کرے ، وہ اپنی اولاد کو پہلے پیش کرے۔بعض لوگ لکھنے کو تو لکھ دیتے ہیں کہ اس طرح سلوک کیا جائے۔اس طرح نوجوانوں پر سختی کی جائے مگر جب خودان کے بیٹوں کے ساتھ سختی کی جائے تو شور مچانے لگ جاتے ہیں تو جو شخص اپنی تجاویز لکھے وہ ساتھ ہی یہ بھی لکھے کہ میں اپنی اولاد کے متعلق سلسلہ کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ جو قانون بھی بنائیں ، میں اپنی اولاد کے ساتھ اس سلوک کو جائز سمجھوں گا۔اسی طرح خدام الاحمدیہ آپس میں مشورہ کر کے مجھے بتائیں کہ نوجوانوں کے اندر محنت اور استقلال سے کام کرنے کی عادت پیدا کرنے کے لئے ان کی کیا تجاویز ہیں۔نوجوان کام کے موقعہ پر سو فیصدی فیل ہو جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں ، یہ مشکل پیش آگئی اس لئے کام نہیں ہو سکا۔وہ نوے فیصدی بہانہ اور دس فیصدی کام کرتے ہیں۔یہ حالت نہایت خطرناک ہے اس کو دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پس خدام مجھے بتائیں کہ نوجوانوں کے اندر محنت سے کام کرنے اور فرائض کو ادا کرنے میں ہر قسم کے بہانوں کو چھوڑنے کی عادت کس طرح پیدا کی جائے۔مشورہ کے بعد ان تجاویز پر غور کر کے پھر میں تجاویز کروں گا اور جماعت کے نوجوانوں کو ان کا پابند بنایا جائے گا۔پہلے اسے اختیار رکھیں گے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون کون سے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں کو سلسلہ کی تعلیم دلانا اور ان کی تربیت کرانا چاہتے ہیں اور جس وقت ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا طریق درست ہے تو پھر دو سرا قدم ہم یہ اٹھا ئیں گے کہ اسے لازمی کر دیا جائے۔بہر حال یہ کام ضروری ہے۔اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو احمد بیت کی مثال اس دریا کی ہوگی جو ریت کے میدان میں جا کر خشک ہو جائے اور جس طرح بعض بڑے بڑے دریا صحراؤں میں جا کر اپنا پانی خشک کر دیتے ہیں۔پانی تو ان میں اس طرح آتا ہے مگر صحرا میں جا کر خشک ہو جاتا ہے۔چھوٹی چھوٹی تالیاں پہاڑوں میں سے گذرتی ہوئی میلوں میل تک چلی جاتی ہیں مگر بڑے بڑے دریا ریت کے میدانوں میں جاکر خشک ہو جاتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے اندر معرفت کا دریا بہہ رہا ہے۔اگر تم میں سستی کم محنتی اور غفلت کا صحرا پیدا ہو گیا تو یہ دریا اس کے اندر خشک ہو کر رہ جائے گا۔چھوٹی چھوٹی ندیاں مبارک ہوں گی جو پہاڑوں کی وادیوں میں سے گزر کر میلوں میل تک چلتی چلی جاتی ہیں مگر تمہارا دریا نہ تمہارے لئے مفید ہو گا اور نہ دنیا کے لئے مفید ہو گا۔پس یہ آفت اور مصیبت ہے جس کو ٹلانا ضروری ہے۔اس آفت کو دور کرنے کے لئے پہلے میں جماعت کے دوستوں سے فرداً فرداً اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے بحیثیت جماعت مشورہ چاہتا ہوں۔انصار اللہ سے اسلئے کہ وہ باپ ہیں اور خدام الاحمدیہ سے بحیثیت نوجوانوں کی جماعت ہونے کے کہ ان پر ہی اس سکیم کا اثر پڑنے والا ہے اور ہر فرد سے جس کے ذہن میں کوئی نئی یا مفید تجویز ہو ، پوچھتا ہوں کہ وہ مجھے مشورہ دے۔پھر میں ان سب پر غور کر کے فیصلہ کروں گا کہ آئندہ نسل کی اصلاح کے لئے ہمیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے۔" (خطبه جمعه فرموده ۴ مئی ۱۹۴۵ء مطبوعه الفضل ۱ مئی ۱۹۴۵ء)