مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 403

403 داڑھی رکھنے کی حکمتیں اسلام کے تمام احکام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔کوئی ایک حکم بھی بغیر مصلحت کے نہیں۔داڑھی رکھنے میں بھی کئی حکمتیں اور کئی مصالح ہیں۔یہ جسمانی صحت کے لئے مفید ہے اور جماعتی تنظیم کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔سکھوں کے کیس اور داڑھی پر سختی سے پابند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص ان کے مذہب پر حملہ نہیں کرتا کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ داڑھی اور کیس پر اس قدر سختی سے پابند ہیں اور اس معاملہ میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتے ، اگر ان کی کسی مذہبی بات میں دخل اندازی کی تو وہ یقینا کٹ مریں گے۔اسی طرح ہماری جماعت میں بھی اسلامی شعائر کو قائم رکھنے کا احساس ہو جائے اور وہ سختی سے اس پر پابند ہو جائے تو یقیناً اس کا بھی لوگوں کے دلوں میں رعب قائم ہو جائے گا اور لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ یہ لوگ اپنی بات کے پکے ہیں اور کسی کی رائے کی پرواہ نہیں کرتے۔جب یہ لوگ داڑھی کے معاملہ میں اس قدر سختی سے پابند ہیں اور باقی اسلام کے وہ کیوں پابند نہ ہوں گے۔اگر ہم نے ان کی کسی دینی بات میں دخل اندازی کی تو یہ لوگ مر جائیں گے مگر اپنی بات کو پورا کر کے چھوڑیں گے۔اس کے مقابل میں اگر لوگ یہ دیکھیں کہ تم لوگوں کی باتوں سے ڈر کر داڑھی منڈوا دیتے ہو یا چھوٹی کر لیتے ہو تو وہ خیال کریں گے جو لوگ دنیا کی باتوں سے ڈر جاتے ہیں، وہ گورنمنٹ کے قانون اور پولیس کے ڈنڈے سے کیوں موعوب نہ ہوں گے۔تمہارا داڑھیوں کے معاملہ میں کمزوری دکھانا جماعت کے رعب اور اثر کو بڑھانے کا موجب نہیں بلکہ رعب او ر ا ثر کو گھٹانے کا موجب ہے۔پھر نمازوں کی پابند می اس سے زیادہ اہم ہے۔داڑھی تو ایک ظاہری چیز ہے۔نماز نماز روحانیت کا سر چشمہ روحانیت کا سرچشمہ ہے اور بندے کے لئے اللہ تعالی کا مقرب بننے کا ذریعہ ہے۔تم یہ جانتے ہو کہ اگر کوئی شخص سنکھیا کھالے تو یقیناً مرجاتا ہے اسی طرح تمہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نماز نہ پڑھنا بھی سنکھیا کھانے سے کم نہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہ سنکھیا ایسا ہے جو قیامت کے دن اپنا اثر دکھائے گا اور انسان کو ابد الاباد تک کی دوزخ میں ڈال دے گا۔پس یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سنکھیا مارتا نہیں بلکہ یہ سنکھیا ایسا ہے جو بہت سی اکٹھی موتیں انسانیت پر وارد کردے۔انسان کو موت آئے گی لیکن وہ مر نہیں سکے گا۔سنکھیا کوئی اتنا مضر نہیں جتنا نماز نہ پڑھنا مضر ہے کیونکہ سنکھیا کھانے سے تو انسان پر ایک موت واقع ہوتی ہے لیکن نماز نہ پڑھنے کے نتیجے میں انسان جو سنکھیا کھاتا ہے وہ ایسا ہے کہ اکٹھی کئی موتیں انسان پر لے آتا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لَا يَمُوتُ فِيهَا وَ لَا يَحي - کہ دوزخ میں انسان نہ مرسکے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا ہر وقت اس کو موت آتی رہے گی لیکن اس کے باوجود وہ مر نہیں سکے گا۔موت کی تکلیف اٹھانے کے بعد وہ بے حس نہیں ہو گا کہ اسے باقی موتوں سے نجات حاصل ہو جائے۔جتنے عیب ، جتنی ستیاں اور جتنی بدیاں ہوں گی ، وہ سب موت کی شکل میں اس کے سامنے نمودار ہوں گی اور ہر بدی اس کے لئے ایک موت لائے گی۔ایک نماز نہ پڑھنے کی وجہ ایک موت ہوئی۔اور پھر دو سوی موت دو سری نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے۔تیسری موت تیری نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے۔اسی طرح جھوٹ بولنے اور بد دیانتی اور بے ایمانی کرنے کی وجہ سے اس پر موتیں وارد ہوں گی۔پس نماز نہ پڑھنا ایک ایسا زہر ہے جو انسان کو ابد الاباد کے دوزخ میں ڈال کر اس پر کئی موتیں وارد کرتا ہے ، اس سے بچنا چاہئے اور نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرنی چاہئے۔اسی طرح سچ ایک ایسی چیز ہے۔جو قومی وقار کو قائم کرتا ہے اور سچ بولنے والی قوم تمام دنیا میں اپنی اس سچ بولنے کی اہمیت خوبی کی وجہ سے قابل تعظیم سمجھی جاتی ہے۔اگر انسان سچ بولے تو دوسرا شخص مرعوب ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں ساری عمر میں سوائے ایک شخص کے مرعوب نہیں ہوا۔مجھے ایک شخص کے متعلق معلوم ہوا کہ اس نے خطا کی ہے۔وہ اکیلے کی خطا تھی۔کوئی شخص اس پر گواہ نہ تھا۔جب مجھے اس کی اطلاع ہوئی تو میں نے خیال کیا کہ چونکہ موقع کا گواہ کوئی