مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 397

397 رسول اللہ میرے باپ نے ایسا کہا ہے اور اس کے فعل کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔یارسول اللہ میں صرف یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ میرے باپ کے قتل کا حکم نافذ فرما ئیں تو مجھے اس قتل پر مقرر کیا جائے کسی اور کو مقرر نہ کیا جائے کیونکہ اگر کسی اور نے میرے باپ کو قتل کیا تو ممکن ہے کہ میرے دل میں اس کے خلاف جوش پیدا ہو اور میں کسی خلاف شریعت فعل کا ارتکاب کر بیٹھوں۔تو اگر واقعہ میں خدام میں یہ جذبہ پیدا ہو گیا ہو تا اور وہ جرائم کی شفاعت کو سمجھتے تو بجائے اس کے کہ اس موقعہ پر ہمیں تحقیق کرنی پڑتی کہ کون کون لوگ ایسے ہیں جو اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں، ہر شخص آگے بڑھتا اور کہتا کہ میراباپ یا میر ابھائی یا میری ماں یا میرا فلال رشتہ دار یہ جرم کر رہا ہے اور میں اس کے خلاف اپنی شہادت پیش کرتا ہوں۔فردی جرم بے شک ایسی چیز ہے کہ جس پر پر دو ڈالا جاسکتا ہے لیکن قومی جرائم پر کبھی پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔اگر قومی جرائم پر بھی پردہ ڈالا جائے تو قومی ترقی بالکل رک جائے اور اس کے افراد اعلیٰ اخلاق کو بالکل کھو بیٹھیں۔قومی جرائم کے ارتکاب پر ضروری ہوتا ہے کہ ہر محلہ بلکہ ہر گھر میں سے لوگ نکلیں اور بدی کا ارتکاب کرنے والوں کار از کھول دیں۔جب قومی جرائم کے ارتکاب پر اس طرح راز کھولے جائیں تو جن لوگوں کی اصلاح اور ذرائع سے نہیں ہو سکتی ان کی اصلاح اس طریق سے ہو جاتی ہے اور جبری طور پر ان میں نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔بدی پر جرات انسان کو اس وقت ہوتی ہے کہ جب اسے یقین ہو تا ہے کہ میرے دوست یا میرے رشتہ دار میرے راز کو ظاہر نہیں کرینگے لیکن اگر اسے یقین ہو کہ میں نے جو بھی برا فعل کیا اسے میرے دوست خود بخود ظاہر کر دینگے تو وہ کبھی برے افعال کی جرات نہیں کر سکتا۔دیکھو چور ہمیشہ رات کی تاریکی میں چوری کرنے کی کوشش کیا کرتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا انتظام ہو تا کہ جو نہی کوئی چور سیندھ لگا تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ستارہ ایسا ظاہر ہو جاتا جس کی چمک اور روشنی کی وجہ سے فورا اسے دیکھ لیتے کہ کوئی شخص چوری کر رہا ہے تو کیا اس کے بعد کسی ایک شخص کو بھی چوری کی جرات ہو سکتی۔یقینا کوئی شخص چوری نہ کرتا کیونکہ وہ ڈر تاکہ ادھر میں نے چوری کی اُدھر میری گرفتاری عمل میں آجائے گی اور لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ اس فعل کا ارتکاب کس نے کیا ہے۔اسی طرح اگر ہم سے ہر شخص اپنی سوسائٹی کے لئے ایک چمکتا ہوا ستارہ بن جائے تو کمزور لوگوں کو اخلاق اور شریعت کے خلاف افعال کرنے کی جرات نہ رہے اور وہ بھی نیکی اور تقویٰ کے لباس میں ملبوس ہو جائیں۔یہی امید اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے رکھتا ہے کہ وہ سب کے سب ہدایت اور رہنمائی کے چمکتے ہوئے ستارے بنیں اور جب کوئی شخص اس برائی کا ارتکاب کرے وہ اس پر اسی وقت اپنی روشنی ڈال دے تا آئند دوہ اپنی اصلاح کر سکے اور قومی ترقی میں روک واقع نہ ہو۔یہ خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض ہے اور میں اللہ تعالی کا اپنے انبیاء کے ذریعہ ایک روحانی جماعت قائم کرنے سے منشاء ہوتا ہے۔پس تم کو اپنا نور اتنا پھیلانا چاہئے کہ تمہاری وجہ سے تاریکی کا کہیں نام و نشان نہ رہے اور اگر بعض لوگ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے قومی