مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 396
396 تخ میں موجود ہوتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ ان آٹھ سو جاسوسوں کے ہوتے ہوئے قادیان میں بلیک مارکیٹ جاری رہتی اور دھو کہ بازی سے گراں قیمت پر اشیاء فروخت ہوتی رہتی ہیں۔دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے۔یا تو ان آٹھ سو جاسوسوں میں سے ایک حصہ کو اپنی قوم کا غدار کہنا پڑے گا اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ ان کو اپنے فرائض سے ایسا غافل رکھا گیا ہے کہ انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ انہیں کام کس طرح کرنا چاہئے ورنہ اگر یہ بات ہو رہی ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ سے قادیان کے دوکانداروں میں یہ عادت پیدا ہو گئی ہے اور دوسری طرف قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کے آٹھ سو یا آٹھ سو پچاس جاسوس موجود ہوتے تو یہ نا ممکن تھا کہ ان کی موجودگی میں یہ بات جاری رہتی۔میں جاسوس کا لفظ ان کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہوں ورنہ جاسوس کا لفظ جس قسم کے لوگوں کے لئے آجکل استعمال کیا جاتا ہے، اس قسم کی جاسوسی اسلام میں منع ہے۔میں نے صرف ان کے فرائض پر زور دینے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے ورنہ صحیح الفاظ یوں ہیں کہ اگر احمدیت کے اخلاق کے آٹھ سو نمائندے قادیان میں موجود ہوتے اور کوئی گھر ایسا نہ ہو تا جس میں ایک نمائندہ موجود نہ ہو تایا اگر کوئی گھر خالی ہو تا تو اس کے قریب کے گھر میں اخلاق احمدیت کا نمائندہ موجود ہو تا تو اس قسم کے حالات پیدا ہونے پر ان میں سے ہر آگے بڑھتا اور کہتا۔میں اپنے باپ کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے چچا کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے دوست کے خلاف شہادت دیتا ہوں کہ وہ گراں قیمت پر چوری چھپے اشیاء فروخت کر رہا ہے۔جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ اگر تمہیں اپنے باپ یا اپنی ماں یا بھائی یا اپنے کسی رشتہ دار کے خلاف گواہی دینا پڑے تو تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے نڈر ہو کر گواہی دے دو اور رشتہ داری کی کوئی پرواہ نہ کرو اسی طرح اگر خدام الاحمدیہ یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کر چکے ہوتے تو ہر محلہ میں سے ایسے نوجوان نکل کر کھڑے ہو جاتے جو ہمارے پاس اگر کہتے۔ہمارے باپ کے پاس فلاں چیز موجود ہے مگر وہ دکان پر تو کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس نہیں لیکن اگر کوئی چوری چھپے زیادہ قیمت دے تو دے دیتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی اور نوجوان نکلتا اور کہتا کہ میری ماں جو کپڑا بیچا کرتی ہے وہ دکان پر تو یہ کہہ دیتی ہے کہ میرے پاس فلاں کپڑا نہیں ہے لیکن جب کوئی گھر میں اگر زیادہ قیمت دے دیتا ہے تو اس قیمت پر وہ کپڑا نکال کر اسے دے دیتی ہے۔اگر خدام الاحمدیہ نے اپنے فرائض کو ادا کیا ہوتا اور اگر ہر نوجوان کے دل میں اخلاق کی اہمیت کو قائم کیا ہو تا تو ہمیں آج اپنے اندر وہی نظارہ نظر آتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کے اخلاق کا نظر آتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک منافق نے کہہ دیا کہ مدینہ چل لینے دو وہاں سب سے زیادہ معزز آدمی یعنی نعوذ باللہ عبد الله اعن ابی ابن سلول سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدینہ سے نکال دے گا۔جب اس نے یہ بات کہی تو ا سکے بعد سب سے پہلا شخص جو شکایت لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا اسی عبد اللہ عن ابی ابن سلول کا بیٹا تھا۔اس نے کہایا