مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 387
387 صرف ایک مضمون کا خلاصہ وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے لیکن اسلام کے اس پیش کردہ خلاصہ کو نہ جاننے کی وجہ سے یورپین نامہ نگار لا اله الا الله محمد رسول اللہ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ہاں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس خلاصہ کو پیش کیا جائے کہ مذہب کی اہم اغراض دو ہیں۔خدا سے تعلق اور بنی نوع انسان سے محبت - تو ساری دنیا اس سے متاثر ہو گی اور وہ سمجھے گی کہ ترقی کا یہ ایک نیا پہلو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے اور ایک نئی چیز ہے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔عیسائی اگر کوشش کریں تو وہ بھی ” خدا محبت ہے “ میں سے یہ دونوں باتیں نکال سکتے ہیں لیکن وہ اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ ایک نیا طریق بیان ہے جس سے بنی نوع انسان کو نیکی کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔کامیابی کے لئے کسی نصب العین کا پیش نظر رکھنا ضروری ہے پس ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہئے کیونکہ کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھے بغیر انسان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دنیا کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اسے کوئی پیغام دیں اور گو مغربی لوگ اس پیغام کا دائرہ نہایت محدود رکھتے ہیں۔لیکن بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایک مختصر پیغام دنیا میں عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے تو تفصیلی پیغام یقینا زیادہ عظمت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مقاصد کی اہمیت کو سمجھیں اور ان کے مطابق دنیا میں تغیر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔پس سب سے پہلی چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی مقصد ہونا چاہئے جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ ہم نے لوگوں سے کچھ کہنا ہے۔دوسرے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس۔طرح کہنا ہے۔کس طرح کہنے میں بھی بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔سکول کا کورس ایک ہو تا ہے۔یونیورسٹی ایک ہوتی ہے مگر اس فرق کی وجہ سے کہ ایک شخص جانتا ہے کہ اس نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا چاہئے اور دوسرا اس امر سے ناواقف ہو تا ہے۔ایک شخص تو ترقی کرتے کرتے محکمہ تعلیم کا ڈائرکٹر مقرر ہو جاتا ہے اور دوسرا اسی ڈگری کا حو سکول کی مدرسی میں ہی اپنی ساری عمر گزار دیتا ہے۔اس ایثار کی وجہ سے دنیا میں قابلیت کے الگ الگ رواج تجویز کر دئیے گئے ہیں۔کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے پرائمری رکھا ہوا ہے کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے مدل رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے انٹرنس رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے ایف۔اے اور بی۔اے رکھا ہوا ہے۔تو کس طرح کہنے کا فرق بھی زمین و آسمان کا تغیر پیدا کر دیتا ہے۔پرائمری کے بعض طالبعلم ایسے ہوتے ہیں جو آئندہ مڈل میں تعلیم پانے والوں کے لئے نمونہ پینے والے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ادنی سے ادنی سکول کے لئے بھی ذلت کا موجب ہوتے ہیں۔کچھ پرائمری کے ماسٹر اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ ان