مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 384
384 ” مجھے مسوڑھوں کی سوزش اور دانتوں کے درد کی وجہ سے بولنا تو نہیں چاہئے لیکن چونکہ میں گذشتہ سال بھی خدام الاحمدیہ کے جلسہ میں تقریر نہیں کر سکا اس لئے باوجود تکلیف کے میں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے کچھ نہ کچھ اس موقعہ پر ضرور آپ کے سامنے بیان کرنا چاہئے۔جب میں گھر سے چلنے لگا تو قدرتی طور پر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں آج کس مضمون پر تقریر کروں۔اس خیال کے پیدا ہوتے ہی دو مضمون میرے ذہن میں آئے۔جن میں سے ایک مضمون فورا ہی اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ایسی صورت اختیار کر گیا کہ میں نے سمجھانہ یہ موقع اس مضمون کے مناسب حال ہے اور نہ وقت اتنا ہے کہ میں اس مضمون کے متعلق اپنے خیالات پوری طرح ظاہر کر سکوں۔وہ مضمون اپنی ذات میں ایک کتابی صورت کی تمہید بنے کے قابل ہے۔تھوڑے سے وقت میں اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔تب میں نے دوسرا مضمون لے لیا۔در حقیقت میر انشایہ تھا کہ یہ دوسرا مضمون اس تمہید کی تفصیل ہو لیکن وہ تمہید ایسارنگ اختیار کر گئی کہ میرے نزدیک وہ زیادہ اہم کتاب کی تمہید بنے کے قابل ہے۔اس لئے میں نے دوسرے حصہ کو جسے میں اس تمہید کی تفصیل کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا، منتخب کر لیا اور میں نے سمجھا کہ اس مضمون کو میں چھوٹا بھی کر سکتا ہوں اور بچوں کے لحاظ سے اس کا بیان کرنا زیادہ مناسب بھی ہے۔جماعتی تنظیم کے دو حصے میں نے بار ہا بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت کی تنظیم در حقیقت دو حصے رکھتی ہے جن میں سے ایک حصہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ ہماری جماعت دوسری جماعتوں سے مختلف ہے اور دوسرا حصہ اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے بغیر قوم فعال نہیں بن سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم کسی مقصد کو لے کر کھڑی نہیں ہوتی، نہ اس میں اپنے کام کے متعلق جوش پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کا ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ قدم بڑھ سکتا ہے۔اسی طرح اگر کسی قوم میں صحیح قوت عملیہ نہ پائی جائے اور وہ ان طریقوں کو اختیار نہ کرے جن کے ذریعہ قوم اپنے خیالات اور اپنے عقائد کو کامیاب طور پر دنیا میں پھیلا سکتی ہے تو اس وقت بھی وہ قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔پس ایک طرف ہمارے لئے اس امر کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ آیا کوئی اہم مقصد ہمارے سامنے ہے یا نہیں تا کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے اور دوسری طرف ہماری تربیت اس رنگ میں ہونی چاہئے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔ہم نے کیا کہتا ہے ہم نے کیا کرنا ہے ؟ ہر قوم کی ترقی کے لئے بنیادی طور پر یہ امر نہایت ہی ضروری ہے کہ اسکا ہر فردان دو فقروں کو اچھی