مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 354

354 جو شخص وقف کرتا ہے اس کا وقف ہمیشہ قائم رہتا ہے اس سلسلہ میں جماعت کے دوستوں کو ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں جس کی طرف پہلے توجہ نہیں اور پہلے میں نے اسے بیان بھی نہیں کیا۔ہر شخص جو اپنی زندگی وقف کرتا ہے" اس کے وقف کرنے کے یہ معنے نہیں کہ اس کا وقف ضرور قبول کر لیا جائے۔پیش کرنے والوں میں سے جو کام کے لئے موزوں سمجھے جاتے ہیں، ان کو لے لیا جاتا ہے اور باقی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن جو شخص ایک دفعہ اپنی زندگی وقف کرتا ہے وہ خدا کے ہاں ہمیشہ ہی وقف سمجھا جاتا ہے۔میرے اسے رد کرنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاں بھی رد ہو گیا ہے۔چاہے ہم اسے قبول نہ کریں وہ خدا تعالیٰ کے ہاں وقف ہے۔چاہے باہر جا کر کوئی اور نوکری ہی کر رہا ہو جب بھی وقف زندگی کے لئے جماعت سے مطالبہ کیا جائے اسکا فرض ہے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے۔خواہ پھر رد کر دیا جائے اور رد کرنے کی صورت میں اگر وہ کوئی اور کام بھی کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت وہ دین کی خدمت میں صرف کرے ورنہ وہ شدید وعدہ خلافی کا مر تکب سمجھا جائے گا۔جب ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے اور پھر امام جماعت بلکہ نبی کے رد کر دینے پر بھی وہ سمجھتا ہے کہ چونکہ مجھے قبول نہیں کیا گیا اس لئے میں آزاد ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ خلافی کا مر تکب سمجھا جائے گا بلکہ اپنے آپ کو پیش کر دینا تو در کنار جو شخص اپنے دل میں بھی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہوں تو پھر کسی وقت بھی اس کا اپنے آپ کو وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنا شدید وعدہ خلافی ہے۔کسی کا اسے قبول کرنے سے انکار اس کے وقف کو نہیں بدل سکتا۔اس کے رد کرنے کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ وہ اس خاص جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا جس سے اس وقت کوئی کام لیا جاتا ہے اور یہ عدم شمولیت اس کے وقف کو بدل نہیں سکتی۔باچہ جس دن سے کوئی وقف کا ارادہ کرتا ہے وہ چاہے اس ارادہ کا اظہار بھی کسی کے سامنے نہ کرے وہ خدا تعالیٰ کے ہاں وقف ہے اور اس سے کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو آزاد سمجھنا وعدہ خلافی ہے۔کامل مومن وہ ہے جو دل کے ارادہ پر بھی پختہ رہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص صدقہ کا ارادہ کرے اس کے لئے صدقہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔جو شخص نفل پڑھنے کا ارادہ کرے اس کے لئے پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے۔پس کامل مومن کا ارادہ بھی اسے باندھ دیتا اور پابند کر دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی ادنی مومن ہے تو جب وہ ایک بار اپنے آپ کو وقف کر چکا تو خواہ اسے قبول نہ بھی کیا جائے