مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 339

339 اور دود چہروں کو ضرور کا فر بنا دیا ہے اور بہت سے نوجوان اس مرض میں مبتلا ہیں کہ وہ مغربی تہذیب اور مغربی تمدن کے دلدادہ ہو رہے ہیں۔وہ اپنے سروں کے بال اپنی داڑھیوں اور اپنے لباس میں مغرب کی نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی شکل کافروں والی بن جاتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکن تشبه بقوم فهو منهم جو شخص اپنی ظاہری شکل کسی اور قوم کی طرح رکھتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔یعنی جب ہم کسی کو دیکھیں گے کہ اس کی شکل ہندوؤں سے ملتی ہے یا عیسائیوں سے ملتی ہے تو ہمیں اس پر اعتبار نہیں آئے گا اور ہم سمجھیں گے کہ یہ بھی انہی سے ملا ہوا ہے اور جب ہمیں اعتبار نہیں آئے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی ذمہ داری کا کام اس کے سپرد نہیں کیا جائے گا اور اس طرح وہ نیکی کے بہت سے کاموں سے محروم ہو جائے گا۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ مومن دل اور مومن شکل بنا ئیں اور مغربیت کی تقلید کو چھوڑ دیں۔میں نے پچھلے سال بھی بتایا تھا کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم مغربی تہذیب کو تباہ کر دو اور اس کی بجائے اسلام کی تعلیم اسلام کے اخلاق اسلام کی تہذیب اور اسلام کے تمدن کو قائم کرو۔بے شک تم اسلامی تمدن تبلیغ کے ذریعے قائم کرو گے تلوار کے ذریعے نہیں۔مگر تبلیغ کے لئے بھی تو یہ بات ضروری ہے کہ مبلغ کی شکل مومنانہ ہو۔پس میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی ظاہری شکل اسلامی شعار کے مطابق ہونی چاہئے اور انہیں اپنی ڈاڑھیوں میں بالوں میں اور لباس میں سادگی اختیار کرنی چاہئے۔اسلام تمہیں صاف اور نظیف لباس پہننے سے نہیں روکتا بلکہ وہ خود حکم دیتا ہے کہ تم ظاہری صفائی کو ملحوظ رکھو اور گندگی کے قریب بھی نہ جاؤ۔مگر لباس میں تکلف اختیار کرنا منع ہے۔اسی طرح تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کوٹ کے کالر کو دیکھنا کہ اس پر گر د تو نہیں پڑ گئی۔یہ ایک نغو بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بعض لوگ اچھے اچھے کپڑے لاتے تھے اور آپ ان کپڑوں کو استعمال بھی کرتے تھے مگر کبھی لباس کی طرف ایسی توجہ نہیں فرماتے تھے کہ ہر وقت برش کردار ہے ہوں اور دل میں یہ خیال ہو کہ لباس پر کہیں گرد نہ پڑ جائے۔برش کروانا منع نہیں مگر اس پر زیادہ زور دینا اور اپنے وقت کا بیشتر حصہ اس قسم کی باتوں پر صرف کر دینا پسندیدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔میں نے خود کبھی کوٹ پر برش نہیں کروایا نہ میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ مجھے کبھی اس بات کی پر واہ ہوئی ہے۔ممکن ہے میں نے چار کوٹ پھاڑے ہوں تو ان میں سے ایک کو کبھی ایک یا دو دفعہ برش کیا ہو۔بعض لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ میرے پاس ان باتوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے وقت نہیں۔آپ کو اگر بڑا لگتا ہے تو بے شک لگے۔اسی طرح کوٹ کے گریبان پر گردن کے قریب بعض دفعہ میل جم جاتی ہے۔مگر میرے نزدیک وہ میل اتنی اہم نہیں ہوتی جتنا میرا وقت قیمتی ہوتا ہے۔ہاں اگر کوئی شخص اس میل کو دور کر دے یا کوٹ پر برش کر لیا کرے تو یہ منع نہیں۔ہم جس چیز سے منع کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان ظاہری باتوں کی طرف اتنی توجہ کی جائے کہ یہ خیال کر لیا جائے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری ہتک ہو جائے گی۔میں نے دیکھا ہے بعض دوست دعوت کے موقع پر رونے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے پاس فلاں قسم کا کوٹ نہیں۔فلاں قسم کی پگڑی نہیں۔اس کے بغیر ہم دعوت میں کس