مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 329

329 ہزار پونڈ سالانہ ان کی تنخواہ پڑھی ہے اور اس لحاظ سے انہیں پانچ ہزار روپیہ سے زیادہ ماہوار ملتا ہے۔ان کا کام یہی ہو تا ہے کہ سارا دن بیٹھے ہوئے شرا میں چکھتے رہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کا انگور فلاں سن کے انگور سے مشابہ ہے اور یہ شراب فلاں سن کی شراب کے مطابق ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شراب تو پانچ روپے بوتل کے حساب سے فروخت ہوتی ہے اور ایک دیسی ہی شراب صرف ذائقہ کے تغیر کی وجہ سے دو سو روپے بوتل کے حساب سے فروخت ہوتی ہے۔غرض چکھنے کی جس کو ترقی دے کر ایسے ایسے کام کئے جاتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ای طرح کانوں کی حس ہے۔اس کو بڑھا کر بھی حیرت انگیز کام لئے جاسکتے ہیں۔امریکہ کے ریڈ انڈ - لنز نے اس میں اتنی ترقی کی ہے کہ وہ زمین پر کان لگا کر یہ بتا دیتے ہیں کہ اتنے سوار مثلا دو چار میل کے فاصلہ پر سے آرہے ہیں۔اس کا راز یہ ہے کہ گھوڑوں کے چلنے کی وجہ سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ حرکت دو سرے کو معلوم بھی نہیں ہوتی مگر انہوں نے کانوں کی حس بڑھا کر اتنی مشق کی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ فور از مین پر کان لگا کر اس حرکت کو معلوم کر لیتے ہیں اور میلوں میں سے سواروں کے آنے کی آواز سن لیتے ہیں۔زیادہ سوار ہوں تو پانچ پانچ میل سے آواز سن لیتے ہیں۔ایک دو ہوں تو نسبتا کم فاصلہ سے اور اگر کوئی پیدل آرہا ہوں تو بھی پچاس سو گز کے فاصلہ سے ہی اس کے آنے کی آہٹ معلوم کر لیتے ہیں۔اسی طرح وہ انسانی قدموں کی آواز سے یہ پہچان لیتے ہیں کہ یہ کسی یورپین کا قدم ہے یا دیسی کا۔اسی طرح وہ بو سونگھ کر بتا دیا کرتے ہیں کہ ہماری طرف کوئی آدمی آرہے ہیں۔چنانچہ ریڈ انڈ- لنز پر حملہ کرتے وقت ہمیشہ یہ ہدایت دی جاتی تھی کہ کبھی اس طرف سے حملہ کے لئے نہ جاؤ جس طرف سے ہوا آرہی ہو کیونکہ وہ بو سونگھ کر سمجھ جایا کرتے ہیں کہ ادھر سے اجنبی لوگ آرہے ہیں۔جانوروں میں بھی یہ حس بڑی تیز ہوتی ہے۔شکاری ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ ادھر سے شکار کے لئے نہ جاؤ کیونکہ ہوا اسی طرف جارہی ہے اور جانور ہو اسے انسان کی بو سونگھ کر سمجھ جاتا ہے کہ میرے شکار کے لئے کوئی شخص آرہا ہے اور بو سونگھتے ہی اڑ جاتا ہے۔ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ ہوا کی طرف سے شکار کرنے کے لئے جاؤ تو جانور پہلے ہی اڑ جاتا ہے کیونکہ اسے انسان کی خوشبو آجاتی ہے تو مختلف کام کرنے میں انسان کی حسیں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔اسی طرح نظر کی حس بڑی اہم چیز ہے اور انسان اس جس سے کام لے کر بڑے بڑے اہم نتائج نکال لیتا ہے۔مشہور قصہ ہے جو بچپن میں ہم اپنی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے کہ کوئی شخص کہیں سے گزرا اور اس نے کہا کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے جس پر فلاں فلاں چیز لدی ہوئی تھی اور اس کی ایک آنکھ کافی تھی اور دانتوں میں نقص تھا۔لوگ بڑے حیران ہوئے کہ اسے کس طرح پتہ لگ گیا۔آخر اس نے بتایا کہ میں نے