مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 324

324 مجھے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال بیرونی خدام کی حاضری دو سو پچاس کے قریب تھی اور اس سال بیرونی خدام کی حاضری ۲۸۶ ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ قادیان کے ارگرد بہت سی نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کو روز بروز زیادہ مکمل ہوتے چلے جانا چاہئے میرے نزدیک یہ حاضری تسلی بخش نہیں۔کہا جاتا ہے کہ ملازم پیشہ لوگوں کو اس دفعہ رخصتیں نہیں مل سکیں مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں گزشتہ سال بھی ملازم پیشہ لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔اس لئے یہ اثر در حقیقت زمینداروں کی کمی کی وجہ سے پڑا ہے۔ابھی مجھے بتایا گیا ہے کہ ملازمت پیشہ لوگ باوجو د رخصت نہ ملنے کے زیادہ تعداد میں شریک ہوئے ہیں۔اس لئے حاضری میں کمی زمینداروں کی طرف سے ہی ہوئی ہے۔میرے نزدیک اس قسم کی ریلی میں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ سارے خدام آئیں بلکہ ان کے نمائندے ہی اس موقعہ پر آنے چاہئیں۔ہاں اگر کوئی شخص شوق سے آنا چاہے تو اسے آنے کی اجازت ہونی چاہئے۔یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ نمائندوں کے سوا اور کوئی نہ آئے۔پھر ان نمائندوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ یہاں کی کارروائیوں کو نوٹ کریں اور اپنی اپنی مجالس میں اسی لائن پر خدام الاحمدیہ کا اجتماع کریں۔مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے جو شخص اپنی مرضی اور خواہش سے آنا چاہے اسے روکنا نہیں چاہئے بلکہ اسے بھی شامل ہونے کی اجازت دینی چاہئے (سوائے مجلس کے کہ جس میں صرف نمائندے ہونے چاہئیں ورنہ رائے شماری غلط ہو جائے گی ) پھر یہ امر مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ صدر کے انتخاب کے موقعہ پر ہر جماعت کا ووٹ اس جماعت کے افراد کے لحاظ سے شمار ہونا چاہئے۔در حقیقت اصول یہی ہوتا ہے کہ چونکہ جماعت کے تمام افراد جمع نہیں ہو سکتے اس لئے ان کا نمائندہ جب کسی رائے کا اظہار کرتا ہے تو وہ رائے تمام جماعت کی سمجھی جاتی ہے۔اس وجہ سے اس کا ووٹ ایک نہیں ہو گا بلکہ جس قدر اس جماعت کے افراد ہوں اسی قدر اس کے ووٹ سمجھے جانے چاہئیں۔مثلاً فرض کرو لاہور کی جماعت والے کسی ایک شخص کو بھیج دیتے ہیں اور لاہور کی جماعت کے ممبر ڈیڑھ سو ہیں تو جب ووٹ لیا جائے گا اس ایک شخص کا ووٹ ڈیڑھ سو ووٹ کا قائمقام سمجھا جائے گا۔ایسے موقعہ پر پہلے سے آئندہ سال کے لئے عہدہ داروں کے نام منگوا لینے چاہئیں اور ان ناموں کی بیرونی جماعتوں کو اطلاع دے دینی چاہئے کہ فلاں فلاں نام صدارت کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔ان کے متعلق اپنی جماعت کی رائے دریافت کر کے اپنے نمائندہ کو اطلاع دے دی جائے۔مگر اس بات کا نہایت سختی سے انتظام کرنا چاہئے کہ انتخاب کے موقعہ پر کسی قسم کا پراپیگنڈہ نہ ہو۔یہ اسلامی ہدایت ہے اور جو شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ مجرم ہے۔ہر شخص کی جو ذاتی رائے ہو وہی اسے پیش کرنی چاہئے۔جو شخص دوسرے سے یہ کہتا ہے کہ میرے حق میں ووٹ دو یا کسی دوسرے شخص کی رائے کو کسی دوسرے کے حق میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے وہ قوم کا مجرم ہے اور ایسے شخص کو سخت سزا دینی چاہئے تاکہ آئندہ جماعت کے قلوب میں یہ امر راسخ ہو جائے کہ ہم نے ایسے انتخابات میں کبھی بھی دوسرے کی رائے کی پیچھے نہیں چلنا بلکہ جو ذاتی رائے ہو اسی کو پیش کرنا ہے۔ہاں جیسا کہ صحابہ کے