مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 314
314 وہ انعام نہ دیا۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صحیح بات یہ ہے کہ جھنڈا اس کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا بلکہ دوسرے کے ہاتھ سے گرا تھا۔پہلے مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ اس کے ہاتھ سے جھنڈا گر ا تھا۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی قابل تعریف فعل ہے۔خدام الاحمدیہ سے ہمیشہ اس بات کا اقرار لیا جاتا ہے کہ وہ شعائر اللہ کا ادب اور احترام کریں گے۔اسی طرح قومی شعائر کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔اس اقرار کو پورا کرنے میں لاہور کے اس نوجوان نے نمایاں حصہ لیا ہے اور میں اس کے اس فعل کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس نوجوان کا نام مرزا سعید احمد ہے اور اس کے والد کا نام مرزا شریف احمد ہے۔بظاہر یہ سمجھا جائے گا کہ اس نوجوان نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا مگر جہاں قومی شعائر کی حفاظت کا سوال ہو وہاں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور در حقیقت وہی لوگ عزت کے مستحق سمجھے جاتے ہیں جو اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وہ لوگ جو اپنی جان کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں انہی کی جانیں دنیا میں سب سے زیادہ سستی اور بے حیثیت سمجھی جاتی ہیں۔آخر غلام قومیں کون ہوتی ہیں۔وہی لوگ غلام بنتے ہیں جو اپنی جانوں کو قربان کرنے سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مر نہ جائیں۔وہ ایک وقت کی موت قبول نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ انہیں بعض دفعہ صدیوں کی موت دے دیتا ہے۔غدر کا مشہور واقعہ ہے کہ انگریزوں نے ظفر شاہ کی ایک بیوی پر اثر ڈالا ہوا تھا جو بادشاہ کو بہت پیاری تھی اور اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تو نے ہمار ا ساتھ دیا تو ہم تیرے بیٹے کو بادشاہ بنادیں گے۔اس لڑائی میں ایک وقت انگریزی فوج نے ایک ایسی جگہ تو ہیں لگائیں جہاں سے قلعہ پر کامیاب حملہ کیا جا سکتا تھا۔ان توپوں پر ایک ایسی جگہ سے زد پڑتی تھی جو ملکہ کے محل کے سامنے تھی۔اس جگہ تو ہیں لگادی جاتیں تو انگریزی حملہ بے کار ہو جاتا تھا۔انگریز سمجھتے تھے کہ اگر اس موقعہ پر شاہی قلعہ کے اس مقام سے گولہ باری کی گئی تو ان کے لئے فتح پانا بالکل ناممکن ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے بیگم کو پیغام بھجوایا کہ جس طرح بھی ہو سکے یہاں سے توپ اٹھوا دو۔اس نے بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ میں نے سنا ہے کہ میرے محل کے سامنے تو پ رکھی گئی ہے۔آپ اسے اٹھوادیں ورنہ میں تو توپ کی آواز سے مرجاؤں گی۔بادشاہ نے کہا یہ ایک فوجی سوال ہے اور اس تکلیف کو تمہیں برداشت کرنا چاہئے۔اگر اس جگہ سے ہم انگریزوں پر گولہ باری نہیں کریں گے تو ہم کبھی فتح حاصل نہیں کر سکیں گے۔مگر وہ برابر اصرار کرتی رہی آخر بادشاہ کے حکم سے فوجیوں نے توپ داغ دی۔توپ کا داغنا ہی تھا کہ اس کی بیوی نے ہسٹیریا کا دورہ بنالیا اور شور مچانے لگ گئی کہ ہائے میں مرگئی۔ہائے میں مرگئی۔چونکہ بادشاہ بھی ایسا تھا جسے ملک اور قوم سے اتنی محبت نہیں تھی جتنی محبت اسے اپنی بیوئی سے تھی اور اس کی طبیعت میں عیاشی پائی جاتی تھی اس نے حکم دے دیا کہ میری بیوی کو تکلیف ہوتی ہے۔یہاں سے توپ اٹھالی جائے۔چنانچہ اسے اٹھالیا گیا مگر نتیجہ کیا ہوا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بیٹے نے بادشاہ تو کیا بنا تھا شہزادہ بھی نہ بنا اور آخر فقیروں کی موت مرا اور پھر اس کے بعد وہ قوم قریباً ایک سو سال ہونے کو آیا کہ اب تک انگریزوں کی غلام چلی آتی ہے۔اس عرصہ میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دہلی میں بعض پانی پلانے والے اور بعض حقہ پلانے والے لوگ دیکھے جن کے متعلق لوگوں