مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 308
308 مقرر ہوتی ہے کہ اتنی شمعیں جلائی جائیں اور وہ شمعیں ایسی ہوں۔اسی طرح اور کئی قسم کی تمثیلیں ہیں جن پر عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں میں عمل کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہندوؤں کے مندروں میں ہوتا ہے۔تو تمثیلی زبان کی ضرورت کو تمام مذاہب نے تسلیم کیا ہے۔پھر ہم اللہ تعالیٰ کے کلام کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح لفظوں میں الہام نازل کرتا ہے اسی طرح وہ تمثیل میں بھی الہام نازل کرتا ہے۔جس طرح وہ کسی بندے کو لفظوں میں کہہ دیتا ہے کہ میں تم کو علم بخشوں گا اسی طرح وہ کبھی تمثیلی زبان میں بھی اس کو دودھ کا پیالہ دے دیتا ہے اور انسان رؤیا میں دیکھتا ہے کہ اسے کسی نے دودھ کا پیالہ دیا ہے اور وہ اس نے پی لیا ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو علم عطا فرمائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے خواب کی حالت میں دودھ کا پیالہ ملنے کا ذکر کیا تو آپ م نے فرمایا اس سے مراد علم ہے۔تو خواب میں اگر دودھ کا پیالہ کسی شخص کو ملے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالی اسے علم عطا فرمائے گا لیکن اس مفہوم کو اگر لفظوں میں ادا کیا جائے تو الفاظ یہ بنیں گے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں تم کو علم بخشوں گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کسی کو یوں بھی فرما دیتا ہے کہ تم نزلہ سے بیمار ہونے والے ہو اور کسی کو گدلا پانی دکھا دیتا ہے جس سے وہ کھیل رہا ہوتا ہے یا اس میں تیر رہا ہو تا ہے۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اسے نزلہ یا نزلہ کی قسم کی کوئی اور بیماری ہونے والی ہے۔جیسے انفلوئنزا ہے یا نمونیہ ہے جس میں نزلہ اعضا پر گرتا ہے اور انسان کو بیمار کر دیتا ہے۔اسی طرح وہ کسی کو کہہ دیتا ہے کہ تمہیں غم پہنچے گا اور کسی کو خواب میں چنے دکھا دیتا ہے یا کچا گوشت دکھا دیتا ہے یا بینگن دکھا دیتا ہے یا گنے دکھا دیتا ہے اور ان کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ کوئی غم پہنچنے والا ہے۔اسی طرح کسی کو وہ یہ کہہ دیتا ہے کہ تمہارا بیٹا مرنے والا ہے اور کسی کو یہ دکھا دیتا ہے کہ وہ ایک بکرا ذبح کر رہا ہے۔غرض وہ کبھی لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا اور کبھی تمثیلی زبان میں ان کو بیان کرتا ہے۔ہم الفاظ میں سارے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں اور سارے کے سارے ایک نقطہ مرکزی پر جمع ہیں مگر کبھی ہم اس بات کو تمثیلی زبان میں ادا کرتے ہیں جب کہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں اور سارے ملکوں سے مسلمان خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوتے ہیں۔یہ حج کے لئے تمام مسلمانوں کا اکٹھا ہونا کیا ہے ؟ یہ تمثیلی زبان میں اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک ہیں۔اسی طرح ہم مونہہ سے کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے سارے کام چھوڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہم تمثیلی زبان میں بھی ایسا کرتے ہیں چنانچہ جب نماز کا وقت ہو تا ہے تو تمام لوگ بیت میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جمعہ کے دن اردگرد کے علاقہ کے لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔یہ مسجد میں مسلمانوں کا نماز کے لئے اکٹھا ہو نا کیا ہے؟ یہ تمثیلی زبان میں اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے اپنے تمام کام کاج چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔جب بھی اس کی طرف سے آواز آئے گی ہم فورا اس پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو جائیں گے۔یہ جو تمثیلی زبان کے اشارے ہوتے ہیں ان کا بھی اسی رنگ میں اعزاز کیا جاتا ہے جس رنگ