مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 292
292 ایام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ گزار سکیں گے لیکن اگر آج انہوں نے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھا اور اپنی جوانی کے ایام اسلام کے خلاف عمل کرتے ہوئے بسر کر دیئے تو ان کا بڑھاپا ان کے لئے عبادت کا وقت نہیں ہو گا بلکہ وہ شیطان کی جنگ میں ہی اپنی عمر کے آخری ایام ضائع کر دیں گے۔انسان جوانی میں کئی قسم کی حرکات کر بیٹھتا ہے جن پر بڑھاپے میں اسے افسوس آتا ہے اور کہتا ہے کاش میں ایسانہ کر تا مگر اس وقت عادتیں پڑ چکی ہوتی ہیں اور انسان باوجود کوشش اور خواہش کے ان عادتوں کو نہیں چھوڑ سکتا۔وہ دیکھتا ہے کہ موت قریب آتی جا رہی ہے۔عمر گھٹتی جا رہی ہے۔زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں مگر ادھر ا سے نظر آتا ہے کہ فلاں بدی میرے اندر پائی جاتی ہے۔فلاں برائی میرے اندر موجود ہے۔پس وہ دل ہی دل میں کڑھتا ہے اور بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے، شیطان کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری ایام گزار دیتا ہے۔پس اپنی جوانی کے ایام کو اسلام کے احکام کے ماتحت گزار نے کی کوشش کرو۔اپنے جو شوں سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ بلکہ اپنے تمام قومی اور اپنی تمام طاقتوں کو بر محل استعمال کر کے ان سے صحیح رنگ میں کام لو۔اگر تم اپنی طاقتوں سے صحیح طور پر فائدہ اٹھاؤ گے تو یاد رکھو جس طرح دریاؤں سے نہریں نکلتی اور بڑے بڑے علاقوں کو سرسبز و شاداب کر دیتی ہیں اسی طرح تم دنیا کو فائدہ پہنچاؤ گے لیکن اگر تم اپنی طاقتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاؤ گے تو جس طرح سندھ کے دریا نے طغیانی سے ضلعوں کے ضلعے تباہ کر دیئے ہیں اسی طرح تم دنیا کے امن کو تباہ و برباد کرنے والے ثابت ہو گے۔انسان کو خداتعالی نے جو طاقتیں اور قوتیں دی ہیں وہ در حقیقت ایک دریا کی طرح ہیں۔اگر ان طاقتوں سے صحیح فائدہ اٹھایا جائے تو وہ نہروں کی طرح دنیا کو فائدہ پہنچاتی ہیں لیکن اگر ان کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو طغیانی والے دریاؤں کی طرح اردگرد کی تمام چیزوں کو ویران کر دیتی ہیں "۔(خطبہ جمعہ فرموده ۳۱ جولائی ۱۹۴۲ء مطبوعه الفضل مورخہ ۶ اگست ۱۹۴۲ء)