مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 255

255 طاقت ہے تو آؤ اور مجھ سے مقابلہ کر لو۔اس کے بعد وہ اس جوش کی حالت میں رسول کریم ملی دیوی کے پاس تشریف لے گئے۔جس شخص کے دل پر قرآن سننے کا اثر نہیں ہوا تھا۔جس شخص کے دل پر توحید کے وعظوں سے کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔جس شخص کے دل پر اخلاق کے نمونے اور تعلیم نے کوئی اثر نہیں کیا تھا۔جس شخص کے دل پر صدقہ و خیرات نے کوئی اثر نہیں کیا تھا۔چونکہ وہ بہادر تھا۔یہ چیزا سے کاٹ کر رکھ گئی کہ ایک بہادر آدمی صبر کرتا ہے اور ظالم سے مار کھا لیتا ہے۔چنانچہ انہوں نے آپ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا۔اشھد ان لا اله الا الله و اشهدان محمدا عبده و رسوله - میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا ایک ہے اور میں ایمان لاتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہادر نہ ہوتے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیر نہ ہوتے۔اگر محمد رسول اللہ صلی و شجاع نہ ہوتے تو آپ کا صبر حمزہ کی ہدایت کا موجب کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔کیونکہ کمزور تو صبر کیا ہی کرتا ہے۔بے شک کمزوروں پر ظلم بھی لوگوں کے دلوں میں رحم پیدا کرتا ہے مگر وہ ظلم صرف رحم پیدا کرتا ہے ، ہدایت کا موجب نہیں ہو تا۔ہدایت ہمیشہ طاقتور کے ظلم کے نتیجہ میں ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔کمزور کے ظلم کو دیکھ کر لوگ رو دیتے ہیں۔آہیں بھر دیتے ہیں مگر کمزور کے ظلم کو دیکھ کر مذہب تبدیل نہیں کرتے۔مذہب اسی وقت تبدیل کرتے ہیں ، جب وہ ایک بہادر اور جری انسان کو گالیاں سنتے اور صبر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔تب وہ کہتے ہیں کہ اس کا صبر کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ خدائی حکم کی وجہ سے ہے۔پس جب میں تمہیں کہتا ہوں کہ اپنے وقتوں میں سے کچھ وقت کھیلوں میں لگاؤ بچے بہادر بنو تو میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم اتنا وقت دنیا کے کاموں میں خرچ کرو بلکہ میں تمہیں اصلاح و ہدایت کا بہترین نمونہ بتانا چاہتا ہوں۔جب تم کبڈی کھیلتے ہو یا کوئی اور کھیل کھیلتے ہو اس نیت اور اس ارادہ سے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو در حقیقت تم نیکی کرتے ہو۔کیونکہ تمہارا یہ سب کام لوگوں کی ہدایت اور اسلام کو پھیلانے کے لئے ہے۔پس بہادر بنو اور بچے بہادر بنو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔سچا بہادر وہ ہے جو ظلم کے وقت صبر سے کام لیتا اور طاقت رکھتے ہوئے عفو سے کام لیتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی جب قربانی کا وقت آتا ہے۔وہ عواقب سے نہیں ڈرتا۔بعض لوگ اس کے برے معنے لیتے ہوئے میری طرف غلط باتیں منسوب کیا کرتے ہیں مگر میں ان کے اعتراضوں سے ڈر کر اس سچائی کو نہیں چھپا سکتا جس کے بغیر اخلاق مکمل نہیں ہو سکتے اور جس کا دوسروں کو سکھانا میرا فرض ہے۔میں تمہیں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ کسی موقع پر اسلام کی خاطر جان قربان کرنے کی ضرورت ہے اور تمہیں اس بات کا موقع ملتا ہے اور تمہارے ہاتھ سے کسی کو نادانستہ طور پر کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو پھر یہ نہ کہو کہ میں وہاں نہیں تھا بلکہ دلیری سے کہو کہ میں نے ہی یہ فعل کیا ہے اور سچائی کو ایک لمحہ کے لئے بھی ترک نہ کرو۔اگر تم ظلم کے سہتے وقت یہ نمونہ دکھاؤ کہ تم سے کمزور تمہارے منہ پر تھپڑ مارے اور تم اپنی دوسری گال بھی اس کی طرف یہ کہتے ہوئے پھیر دو کہ اے