مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 233
233 پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو دوسروں کے دلائل سے آگاہ رکھیں اور ہر فرد کے یہ ذہن نشین کریں کہ دو سرا کیا کہتا ہے اور اس کے اعتراضات کا کیا جواب ہے اور میں اس غرض کے لئے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ سال میں ایک ایسا ہفتہ مقرر کریں۔جس میں ان کی طرف سے یہ کوشش ہو کہ وہ جماعت کے ہر فرد کو نہ صرف اپنی جماعت کے مسائل سے آگاہ کریں۔بلکہ یہ بھی بتائیں کہ دوسروں کے کیا کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا کیا جوابات ہیں۔یہ تعلیم کا سلسلہ زبانی ہونا چاہئے اور پھر زبانی ہی ان کا امتحان بھی لینا چاہئے تا جماعت میں بیداری پیدا ہو اور وہ دوسروں کے ہر حملہ سے اپنے آپ کو پوری ہوشیاری سے بچا سکے۔مگر یہ نہ ہو کہ تم اپنی کتابیں پڑھنی چھوڑ دو اور دوسروں کی کتابیں پڑھنے میں ہی مشغول ہو جاؤ۔پہلے اپنے سلسلہ کی کتابیں پڑھو۔ان کو یاد کرو۔ان کے مضامین کو ذہن نشین کرو اور جب تم اپنے عقائد میں پختہ ہو جاؤ تو مخالفوں کی کتابیں پڑھو۔مگر چوری چھپے نہ پڑھو بلکہ علی الاعلان پڑھو اور سب کے سامنے پڑھو۔اور پھر مخالف دلائل کا پوری مضبوطی سے رد کرو اور دوسروں اپنے آدمیوں کو شیر کی طرح دلیر بناؤ کے مقابلہ میں ایک شیر کی طرح کھڑے ہو جاؤ نا تمہارے متعلق کسی کو یہ و ہم نہ ہو کہ دوسرا تمہیں ورغلا سکے گا۔بلکہ جب وہ تمہیں چھیڑے تو ہر شخص کا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہو کہ اب تم ضرور کوئی نہ کوئی شکار پکڑ کر لے آؤ گے۔پس تم اپنے آدمیوں کو شیر کی طرح دلیر بناؤ۔انہیں بلوں میں چھپنے والے چوہے نہ بناؤ۔تم تجربہ کے بعد خود بخود دیکھ لو گے کہ اس کے بعد جماعت روحانی لحاظ سے کتنی مضبوطی حاصل کر لیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس سچائی ہے تو ہمیں مخالف کی کسی بات کا کیا خوف ہو سکتا ہے۔وہ لاکھ اعتراض کرے۔خدا اس کے تمام اعتراضات کو باطل کر دے گا۔میرا اپنا تجربہ ہے کہ مخالف خواہ کیسا ہی اعتراض کرے خدا تعالیٰ اس کا کوئی نہ کوئی جواب ضرور سمجھا دیتا ہے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا چھوٹی بیت الذکر میں ایک شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میں نے آپ سے ایک سوال کرنا ہے۔میں نے کہا کرو۔وہ کہنے لگا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ مرزا صاحب کی صداقت قرآن کریم سے ثابت کریں۔میں نے کہا سارا قرآن مرزا صاحب کی صداقت سے بھرا پڑا ہے۔میں کس کس آیت کو پڑھوں۔وہ کہنے لگا آخر کوئی آیت تو پڑھیں۔میں نے کہا کہ جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی صداقت سے بھرا ہوا ہے۔تو کسی ایک آیت کا سوال ہی کیا ہے۔تم خود کوئی آیت پڑھ دو۔میں اسی سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔قرآن کی بعض آیتیں لمبے چکر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت بنتی ہیں اور بعض آیتوں سے سیدھے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے۔مگر مجھے یقین تھا کہ خدا اس کی زبان پر کوئی ایسی آیت ہی لائے گا جس سے وہ فورا پکڑا جائے گا۔چنانچہ اس نے جھٹ یہ آیت پڑھ دی کہ وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَقولُ آمَنَّا بِالله وَبِالْيَوْمِ الْآخِرَ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِيین - (البقرہ:9) اور کہا کہ اس سے مرزا صاحب کی