مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 201
201 طرف نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی طرف ہو گا۔یہی حیثیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی عطا فرمائی ہے۔وہ امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔وہ نبی ہیں ہم لوگوں کی نسبت سے اور وہ امتی ہیں محمد علی ایم کی نسبت سے۔عیسی نبی تھے موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے بھی۔صرف اپنی امت کی طرف مونہہ کر کے ہی نبی نہیں تھے۔اسی طرح داؤد نبی تھے موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے بھی۔صرف اپنی امت کی طرف منہ کر کے نبی نہیں تھے۔اسی طرح سلیمان ، ذکریا اور یھی بھی نبی تھے موسیٰ کی طرف موہنہ کر کے بھی یہ نہیں کہ صرف اپنی امت کی طرف مونہہ کر کے نبی ہوں اور موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے امتی۔مگر رسول کریم ملی والی ہر ایک کے ذریعہ یہ عجیب قسم کی نبوت جاری ہوئی کہ ایک ہی نبی جب ہماری طرف مخاطب ہوتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے اور جب محمد علی سے مخاطب ہوتا ہے تو امتی بن جاتا ہے۔اور وہ کسی ایسے کام کا دعویدار نہیں ہو سکتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ اس کا فرض ہو تا ہے کہ اسی کام کو چلائے جس کام کو محمد میں نے چلایا۔کیونکہ فرماتا ہے وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بھم اللہ تعالیٰ اسے آخرین میں بھی مبعوث کرے گا جو ابھی پیدا نہیں ہوئے گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ بعثت ہو گی۔اور یہ ظاہر ہے کہ محمد میل الایام کے دو کام نہیں ہو سکتے۔وہی کام جو آپ نے پہلے زمانہ میں کئے وہی آخری زمانہ میں کریں گے۔اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح ناصری کے بھی ظل یا مثیل تھے مگر آپ سے ان کو صرف قلیت کا تعلق تھا تابعیت کا نہیں کیونکہ گو آپ کو نام مسیح کا دیا گیا تھا۔کام مسیح کا نہیں دیا گیا تھا کام آپ کو محمد رسول اللہ میں یا اللہ کا سپرد کیا گیا تھا جیسا کہ سورہ جمعہ سے ثابت ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہے وہ زیادہ شدید ہے بہ نسبت اس کے جو آپ کو مسیح ناصری سے حاصل ہے اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس میرا سب مدار پس ہماری جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر ایمان لاتی ہے اس کے افراد کو یہ امرا چھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ یا تو وہ یہ دعویٰ کریں کہ حضرت مرزا صاحب کو وہ کوئی ایسا نبی سمجھتے ہیں جنہوں نے رسول کریم میل کی اتباع اور آپ کی غلامی سے آزاد ہو کر مقام نبوت حاصل کیا ہے۔اس صورت میں وہ بے شک کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارا نبی آزاد ہے اس لئے ہم نئے قانون بنائیں گے اور جو کام ہماری مرضی کے مطابق ہو گاو ہی کریں گے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کریں گے۔پس اگر ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ ہمارا نبی مستقل ہے اور وہ رسول کریم م لیلی کی غلامی اور آپ کے احکام کی اتباع سے آزاد ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم یا صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت نہیں۔جو باتیں ہمیں اچھی لگیں گی اور جو ہماری مرضی کے مطابق ہوں گی صرف ان میں حصہ لیں گے۔باقی کسی میں حصہ نہیں لیں گے۔لیکن اگر ہمارا یہ دعوئی ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سورہ جمعہ کے مطابق امتی نبی ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ رسول کریم ملی یہ ہی وہ رسولاً