مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 182

182 ہو چکے تھے کہ فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لیں چنانچہ گیارہ سال کا علی مدینہ پہنچتے وقت چو بیس سال کا جوان تھا اور سترہ سال کا زبیر مدینہ جاتے وقت تمہیں سال کا جوان تھا۔یہی حال باقی نوجوان صحابہ کا بھی تھا۔کوئی ان میں سے تمیں سال کا تھا کوئی چونتیس سال کا تھا اور کوئی پینتیس سال کا تھا۔پس بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نئے سرے سے ایک جماعت بنانی پڑتی، جب آپ مدینہ میں پہنچے اور کام وسیع ہو گیا تو آپ کو انہی نوجوانوں میں سے بہت سے مدرس مل گئے جنہوں نے مکہ میں آپ سے سبق حاصل کیا تھا اور پھر اور دس سال تک مدینہ میں بھی انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں رہنے کا موقعہ مل گیا۔اور جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو اسلام کو ابتدائی دور میں نوجوانوں نے تقویت بہم پہنچائی اس وقت چوبیس سال کا علی" چونتیس سال کا جوان تھا اور ابھی ایک لمبا عرصہ کام کا ان کے سامنے پڑا تھا۔اسی طرح وہ زبیر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لاتے وقت سترہ سال کا تھا وہ اس وقت چالیس سال کا جوان تھا۔تو یہ نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں باوجود تئیس سال آپ کے ساتھ کام کرنے کے ، جب آپ فوت ہوئے تو ابھی ان کے سامنے ان کی زندگی کے ہیں تمھیں سال کام کرنے کے لئے پڑے تھے اور پھر ہر ایک نے آپ کی وفات کے بعد اپنی اپنی عمر کے مطابق کام کیا چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اڑھائی سال کام کرنے کا موقعہ ملا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد ساڑھے آٹھ سال کام کرنے کا موقعہ ملا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد میں سال کام کرنے کا موقعہ ملا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد چھبیس سال کام کرنے کا موقعہ ملا۔یہی حال طلحہ اور زبیر کا بھی ہوا حتی کہ بعض صحابہ اس قسم کے بھی تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس پچاس سال تک زندہ رہے اور بعض ایسے بھی تھے گو ان کی تعداد بہت کم ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ستر اسی سال زندہ رہے۔یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ نوجوانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت ڈالی اور وہی نوجوان درست ہو کر ایک لمبی عمر تک خدمت اسلام کرتے رہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مدینہ پہنچے تو اس وقت حضرت انس کی عمر دس سال کی تھی۔دس سال وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہے اور جب میں سال کے ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وفات پاگئے مگر خود حضرت انس کی وفات ایک سو دس سال میں جاکر ہوئی۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے نوے سال بعد تک انہیں لوگوں کو اسلام کی تعلیم سکھانے کا موقعہ ملا۔بوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے وقت بہت نوجوان ہونے اور بہت لمبی عمر پانے کے یہ سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی تھے۔اب دیکھ لو اللہ تعالٰی نے اس سلسلہ کو کہاں تک ممتد کر دیا مگر بہر حال اس سلسلہ کا امتداد نوجوانوں کے ذریعہ ہی