مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 181
181 سمجھتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ دوسری انجمنوں کی طرح ایک انجمن ہے ، وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ انہیں اس میں شامل رکھا جائے۔اسی طرح وہ ممبر جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک کمیٹی بنا کر سلسلہ کی خدمت کا جزوی طور پر کچھ کام کریں گے ، وہ بھی اپنے کام کی اہمیت اور اس کی عظمت سے بالکل ناواقف ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے نوجوانوں کی درستی ہی اصل کام ہوا کرتا ہے اور یہی کام ہے جو قوموں کی ترقی کے راستہ میں محمد اور معاون ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت رسول کریم" پر نوجوانوں کی جماعت ہی ابتداء میں ایمان لائی تھی انبیاء علیہم السلام پر f ابتدائے زمانہ میں ایمان لانے والے زیادہ تر نوجوان ہی ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ بوڑھے بوڑھے اس کے سلسلہ میں شامل ہوں اور چند روز خدمت کر کے وہ وفات پا جائیں اور سلسلہ کی تعلیم کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے والے کوئی نہ رہیں۔پس وہ بوڑھوں کی بجائے زیادہ تر نوجوانوں کو اپنے سلسلہ میں شامل کرتا ہے اور نوجوانوں کی جماعت کو ہی نبی کی تربیت میں رکھ کر درست کرتا ہے تاکہ وہ نبی کی وفات کے بعد ایک لمبے عرصہ تک اس کے لائے ہوئے نور کو دنیا میں پھیلا سکیں اور اس کی تعلیم کی اشاعت اور ترویج میں حصہ لے سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو آپ کے مقرب ترین صحابہ قریباً سارے ہی ایسے تھے جو عمر میں آپ سے چھوٹے تھے۔حضرت ابو بکر آپ سے اڑھائی سال عمر میں چھوٹے تھے۔حضرت عمر آپ سے ساڑھے آٹھ سال عمر میں چھوٹے تھے اور حضرت علیؓ آپ سے انتیس سال عمر میں چھوٹے تھے اسی طرح حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ہیں سال سے لے کر پچیس سال تک آپ سے عمر میں چھوٹے تھے۔یہ نوجوانوں کی جماعت تھی جو آپ پر ایمان لائی اور اس جوانی کے ایمان کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ چونکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہے تھے اور پھر ان کی عمریں چھوٹی تھیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہ لوگ ایک عرصہ دراز تک لوگوں کو فیض پہنچاتے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعوی نبوت کے بعد تئیس سال کے قریب زندہ رہے ہیں۔اب اگر ساٹھ سالہ بوڑھے ہی آپ پر ایمان لاتے اور نوجوان طبقہ اس میں شامل نہ ہو تا تو نتیجہ یہ ہو تاکہ ان میں سے اکثر مکہ میں ہی وفات پا جاتے اور مدینہ کے لوگوں کے لئے نئی ٹریننگ شروع کرنی پڑتی کیونکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ پہنچتے تو پہلی تمام جماعت ختم ہو چکی ہوتی اور آپ کو ضرورت محسوس ہوتی کہ ایک اور جماعت تیار کریں جو اسلام کی باتوں کو سمجھے اور آپ کے نمونہ کو دیکھ کر وہی نمونہ دوسروں کو اختیار کرنے کی تلقین کرے۔اگر ایسا ہو تا تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات ہو تیں مگر اللہ تعالٰی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔اس لئے ایسا انتظام فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو بجائے کسی نئی جماعت کی ٹرینگ کے وہی نوجوان جو مکہ میں آپ پر ایمان لائے تھے اس قابل