مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 180

180 میں نے خدام الاحمدیہ کو گزشتہ پانچ چھ خطبات میں ایسے امور کی طرف توجہ دلائی ہے جن کی طرف توجہ کر کے وہ جماعت کے لوگوں میں بیداری اور دینداری پیدا کر سکتے ہیں اور نوجوانوں کا گر وہ ہی ایک ایسا گر وہ ہے جس کی زندگی پر قومی زندگی کا انحصار ہوتا ہے کیونکہ کسی اگلی پود کا درست ہو نا قومی عمر کو نہایت لمبے عرصہ تک پھیلا دیتا ہے مثلاً اگر انسان کی اوسط عمر ساٹھ سال سمجھی جائے اور نوجوانوں کی جماعت درست ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اگر نوجوانوں کو میں سال کا بھی فرض کر لیا جائے تو اس قوم کی عمر مزید چالیس سال تک لمبی ہو سکتی ہے۔ایک ساٹھ سالہ بوڑھے کی درستی صرف ایک یا دو سال تک قوم کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ایک پچاس سالہ عمر والے انسان کی درستی اوسطاً دس سال تک قوم کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ایک چالیس سالہ شخص کی درستی انداز ا ہیں سال تک قوم کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور تیس سالہ عمر والے کی درستی قوم کو انداز اتمیں سال تک فائدہ پہنچا سکتی ہے لیکن اگر ہمیں سالہ نوجوانوں کی درستی کر دی جائے تو وہ چالیس سال تک قوم کو فائدہ پہنچا سکتے اور اس کی خصوصیات اور روایات کو قائم رکھ سکتے ہیں اور چالیس سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہو تا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان کی اوسطاً عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان ہے اور ادھر دس گیارہ سال کا لڑکا جوانی کے قریب پہنچ جاتا ہے اس لئے در حقیقت اگر نوجوانوں کی درستی کر لی جائے تو وہ چالیس سال ہی نہیں بلکہ پچاس سے ساٹھ سال تک قوم کی حفاظت کا موجب بن جاتے ہیں اور پچاس ساٹھ سال تک کسی قوم کی نشو و نما کا موقعہ مل جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔اگر وہ قوم ہمت والی ہو ، اگر وہ مشکلات اور مصائب سے گھبرانے والی نہ ہو اگر خدا کے وعدے اور اس کی نصرتیں اس کے ساتھ ہو اور اگر اس قوم کے نوجوان اور بوڑھے درست ہوں اور ان کا اخلاقی اور مذہبی معیار بہت بلند ہو تو وہ پچاس ساٹھ سال کے اندراندر تمام دنیا پر چھا جانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔در حقیقت اتار چڑھاؤ ہی ہے جو قوموں کو نقصان پہنچایا کرتا اور ان کی ترقیات کو روک دیتا ہے یعنی ایک وقت تو وہ جوش میں آجاتی اور بڑے زور شور سے کام شروع کر دیتی ہیں مگر دوسرے وقت گر جاتی ہیں۔ایک وقت تو ان کی ہمتیں نہایت بلند ہوتی ہیں اور وہ مردانہ وار مصائب کے مقابلہ کا تہیہ کر کے ترقی کی طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہیں مگر دوسرے وقت بالکل دب جاتی اور پستی کی طرف گرنا شروع کر دیتی ہیں۔ایسی صورت میں اس قوم کی پستی کا زمانہ اس کے ان فوائد کو کمزور کر دیتا ہے جو اس نے اپنی ترقی کے ایام میں حاصل کئے ہوتے ہیں مگر جب تمام قوم کا قدم یکساں طور پر آگے کی طرف بڑھتا چلا جارہا ہو تو پچاس ساٹھ سال دنیا بھر میں تغیر پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔نوجوانوں کے اخلاق سدھارنے سے جماعت کو عظیم الشان فائدہ لیس و سکتا ہے نوجوانوں کو درست کرنے اور ان کے اخلاق سدھارنے سے جماعت کو عظیم الشان فائدہ پہنچ سکتا ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے کام کی عظمت کبھی بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے۔خدام الاحمدیہ کے وہ ممبر جو یہ