مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 175

175 قادیان میں بھی اور باہر بھی شروع کریں۔مجھ سے مشورہ کر کے وہ ایسی سکیمیں تیار کر سکتے ہیں کہ جن کے ذریعہ ایسی کھیلیں جماعت میں جاری کی جا سکیں جو آئندہ زندگی میں کام آنے والی ہوں۔نویں بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو نوجوان علم کا نور عام کرنے کی کوشش کریں توجہ دلاتا ہوں وہ علم کا عام کرتا ہے۔میں پہلے ان کو توجہ دلا چکا ہوں کہ ان کا فرض ہے کہ علم سیکھیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی شخص کا نیکی حاصل کرنا اسے بچا نہیں سکتا جب تک اس کے ارد گرد بھی نیکی نہ ہو۔آپ اپنے بچے کو کتنا سچ بولنے کی عادت کیوں نہ ڈالیں وہ کبھی سچا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے محلہ میں دوسرے بچے جھوٹ بولتے ہیں۔پس ان کا اپنا علم حاصل کر لینا کام نہیں آسکتا جب تک کہ دوسروں میں تعلیم کی اشاعت نہ کریں۔کچھ عرصہ سے میں نے ان کے سپرد یہ کام کیا ہوا ہے کہ قادیان میں کوئی ان پڑھ نہ رہے اور جب یہاں یہ کام ہو جائے گا تو پھر باہر بھی اسے شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کچھ عرصہ سے اس کے متعلق کوئی رپورٹ مجھے نہیں بھیجی اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام ہو رہا ہے یا نہیں۔یہ کام اتنا اہم تھا کہ ان کو یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ اس کے متعلق ہفتہ واری رپورٹ ضروری ہے مگر آج میں یہ کام پھر خصوصیت کے ساتھ ان کے سپرد کرتا ہوں اور ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسے پہلے یہاں شروع کریں اور پھر باہر اور کوشش کریں کہ سال دو سال کے عرصہ میں کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو پڑھا ہوا نہ ہو خواہ احمدی عورت ہویا مرد بچہ ہو یا بوڑھا سب پڑھے ہوئے ہونے چاہئیں۔اس کے لئے چھوٹے سے چھوٹا معیار مقرر کر لیا جائے اور پھر اس کے مطابق سب کو تعلیم دی جائے۔یا درکھنا چاہئے کہ جب تک علم عام نہ ہو ، جماعت پورا خدام الاحمدیہ ہر احمدی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں قائدہ نہیں اٹھا سکتی۔اس زمانہ میں علم کتابی ہو گیا ہے مگر پہلے زمانہ میں زبانی ہو تا تھا۔پہلے زمانہ میں علم کا نوں کے ذریعہ سکھایا جا تا تھا مگر اب کتابوں کے ذریعہ۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہر احمدی لکھنا پڑھنا سیکھ جائے۔عربوں میں زبانی حفظ کرنے کا رواج تھا اور اس کا یہاں تک اثر ہے کہ صرف و نحو کی بعض کتابیں وہ ہر طالب علم کو حفظ کراتے ہیں۔پرانے زمانہ میں علماء کے لئے قرآن کریم کو حفظ کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔حدیثوں کو یاد کرنا محدثین کے لئے ضروری ہو تا۔شاعروں میں شعر زبانی یاد کرنے کا رواج تھا۔صرفی نحوی صرف و نحو کی کتابیں یاد کرتے تھے۔فقہاء فقہی کتابیں حفظ کرتے تھے مگر آج کل تو قرآن کریم کا حفظ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔کتابیں عام ہیں ، جب ضرورت ہوئی، دیکھ لیا مگر اس زمانہ میں کتابیں عام نہ تھیں اس لئے حفظ کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ اس زمانہ میں کتاب لکھنا یا پڑھنا موجب عار سمجھا جاتا تھا اور اس کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے کہ حافظہ کمزور ہے۔وہ شاعر شاعر ہی نہیں سمجھا جاتا تھا جس کے شعر لکھے جائیں۔اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ گویا اس کی قوم نے اس کی قدر نہیں کی۔اگر قوم قدر کرتی