مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 158
158 اور پیسے کے بیسویں حصہ کی سیاہی اور لکھ دیا حضور میری توبہ! میرا قصور معاف فرمائیں۔آپ سے زیادہ رحیم بھلا کون ہو سکتا ہے۔آپ رحیم کریم اللہ کے نمائندے ہیں اور اگر چومیں گھنٹے کے اندر اندر اسے جواب نہ دیا شخص جائے کہ اچھا تمہیں معاف کر دیا گیا ہے تو تمام معززین کی چٹھیوں پر چٹھیاں آنی شروع ہو جائیں گی کہ فلاں بڑا پشیمان ہے۔وہ اب تو بہ کرتا ہے۔اسے معاف کیا جائے۔تم اس قسم کا تمسخر کسی زندہ قوم میں نہیں دیکھ سکتے۔تم چلے جاؤا انگستان میں تم چلے جاؤ جرمنی میں تم چلے جاؤ ا مریکہ میں تم چلے جاؤ اٹلی میں ، تم چلے جاؤ فرانس میں ، تم کسی ایک جگہ بھی ایسا تمسخر ہوتے نہیں دیکھو گے۔تم سو میں سے ایک احمق بھی ایسا نہیں دیکھو گے جو قصور کے بعد کاغذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ جائے اور معافی کی درخواست لکھنا شروع کر دے اور تم کوئی ایسا احمق نہیں دیکھو گے جو ایسے شخص کی سفارش کرے مگر ہمارے ہندوستان میں یہ عام بات ہے اور یہ مرض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے نتیجہ میں عجیب عجیب نظارے بعض دفعہ دیکھنے میں آئے ہیں چنانچہ اس سلسلہ میں ایک امر کا میرے دل پر بہت گہرا اثر ہے۔جب تشعیہ الاذہان کی انجمن قائم ہوئی تو اس وقت ہم میں سے ایک شخص سے ایک غلطی ہوئی۔اس نے بعد میں تو بہ بھی کی۔قربانی بھی کی اور نقصان بھی اٹھایا مگر اس وقت اس سے غلطی ہو گئی۔اس شخص کے اخلاص کا تم اس سے اندازہ کر لو کہ وہ ایک معقول تنخواہ چھوڑ کر یہاں صرف دس روپے ماہوار پر ہماری انجمن میں ملازم ہو گیا تھا۔یہ شخص ہماری انجمن کے ابتدائی ممبروں میں سے تھا۔ضمناً میں یہ بتادیتا ہوں کہ جس وقت میں نے یہ انجمن قائم کی تھی اس وقت ہم صرف سات لڑکوں نے اسے اپنے خرچ پر جاری کیا تھا۔اس وقت تحریک جدید کے ایک سو چالیس لڑکے ہیں مگر وہ ان سات جدی ما کام کر کے بھی نہیں دکھا سکتے۔ہم کل سات لڑکے تھے مگر ہم نے دس روپے ماہوار کا ایک نوکر بھی رکھا ہوا تھا۔ہماری مالی حالت اس وقت جو کچھ تھی اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے تین روپیہ ماہوار وظیفہ ملا کر تا تھا جو قلم دوات کاغذ اور دوسری ضروریات پر میں خرچ کیا کرتا مگر ان تین روپوں میں سے بھی ایک روپیہ ماہوار اس انجمن پر خرچ کرتا تھا۔اسی طرح باقی لڑکوں کا حال تھا۔اُسی سرمایہ سے آہستہ آہستہ ہم نے رسالہ جاری کیا اور چونکہ رسالہ پر ہم خود محنت کیا کرتے تھے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اچھا سرمایہ جمع ہو گیا اور ہمارا کام عمدگی سے چلنے لگا اور ہم نے کام کی سہولت کے لئے دس روپیہ ماہوار پر ایک آدمی رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس دوست نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کر دیا۔وہ آدمی بہت نیک تھا۔غریبوں کی مدد کیا کرتا۔رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیتا اور نماز روزہ کا بھی پابند تھا مگر بعض دفعہ آدمی سے کوئی کو تاہی ہو ہی جاتی ہے اس سے بھی ایک دفعہ یہ کو تاہی ہوئی کہ انجمن کا کچھ روپیہ اس نے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کر لیا اور خیال کر لیا کہ اگلی تنخواہوں سے آہستہ آہستہ ادا کردوں گا۔اس امر کا جب ہمیں علم ہوا تو یہ معاملہ ہماری کمیٹی میں پیش ہوا۔اس وقت ہم میں سے کچھ کالج کے سٹوڈنٹس بھی تھے کیونکہ ہم سات لڑکوں میں سے کچھ انٹرنس پاس کر کے جلدی کالج میں داخل ہو گئے۔جب یہ معاملہ ہماری کمیٹی میں پیش ہوا تو جو کالج کے سٹوڈنٹ تھے انہوں نے