مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 139

139 ہیں اور پھر اس پر مکھیاں بیٹھ کر دوسری کھانے کی چیزوں پر بیٹھتی ہیں اور جس طرح بادل سمند ر سے بنتے اور پھر پانی بن کر سمندر میں چلے جاتے ہیں اسی طرح اس گندگی کا بھی حال ہے۔بعض لوگ تو ایسے احمق ہیں کہ وہ گندہ رہنے کو نیکی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صفائیاں کرنا انگریزوں کا کام ہے۔ہم مومن اور مخلص ہیں۔ہمیں ان باتوں سے کیا؟ وہ مومن مخلص اسے سمجھتے ہیں جو زیادہ گندہ ہو۔زمانہ کتنا بدل جاتا ہے۔میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے حالات ایک تاریخ کی کتاب میں پڑھ رہا تھا۔گو اس زمانہ میں مسلمانوں میں تنزل کے آثار شروع ہو گئے تھے مگر پھر بھی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب میں نے دیکھا کہ اس میں صفحوں کے صفحے اس موضوع پر لکھے ہوئے ہیں کہ ایک یورپین عیسائی اور شامی مسلمان میں کیا فرق ہے۔اور فرق یہ بتائے گئے ہیں کہ مسلمان صفائی اور نظافت ایمان کا حصہ ہے۔تصوف کا غلط مفہوم صاف ستھرا ہوتا ہے۔اس کا بدن اور اس کے کپڑے اور مکان صاف ہوتا ہے لیکن یورپین گندہ ہوتا ہے۔اس کے بال اور ناخن بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کا بدن اور لباس غلیظ ہوتا ہے۔یہ اس زمانہ کے مسلمانوں کی حالت تھی مگر آج کیا ہے ؟ آج ایشیا کا مسلمان غلیظ اور یورپین عیسائی صاف ستھرا ہوتا ہے۔پھر وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیوں کو سمجھاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں تصوف یہی ہے۔اور بعینہ آج یہ حالت مسلمانوں کی ہے۔آج مسلمان ایسا ہی سمجھتے ہیں۔وہی چیزیں جو عیسائیوں میں تھیں آج ان میں آگئی ہیں اور جو ان میں تھیں وہ عیسائیوں میں چلی گئی ہیں۔بالکل الٹ معاملہ ہو گیا ہے۔جس طرح بچے کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے۔جو نیچے ہوتا ہے وہ کہتا ہے میرے کو ٹھے کون چڑھی۔یعنی میرے مکان کی چھت پر کون چڑھا ہے ؟ اوپر والا جواب دیتا ہے کانٹو۔نیچے والا کہتا ہے اتر کانٹو میں چڑھاں یعنی کا نٹوا ترو اب میری باری چڑھنے کی ہے۔اس پر اوپر والا اتر کر گھوڑا بن جاتا ہے اور جو گھوڑا تھاوہ سوار ہو جاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں یورپین عیسائیوں اور ایشیائی مسلمانوں میں بالکل ایسا ہی کھیل کھیلا گیا ہے۔ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ کون غلیظ ہے ؟ تو جواب ملتا تھا عیسائی۔اور جب کہا جاتا تھا کون صاف ہے ؟ تو جواب ملتا تھا مسلمان۔مگر آج جب کہا جاتا ہے کون صاف ہے ؟ تو جواب ملتا ہے عیسائی اور جب کہا جاتا ہے کون غلیظ ؟ تو جواب ملتا ہے مسلمان۔مگر اس تجویز پر عمل کر کے ہر جگہ کے احمدی اس حالت کے بر عکس نقشہ دکھا سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ ابھی یہاں بھی عمل شروع نہیں ہوا۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیں اور دوسروں کو سمجھائیں اور عملاً کام کریں۔میں نے جو اعلان عملی کام کے متعلق کیا تھا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ خدام الاحمدیہ اس سے غافل نہیں ہیں۔جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اس کے لئے انجینئروں کے مشورہ کی ضرورت ہے جو لیا جا رہا ہے اور اس کے بعد کام شروع کر دیا جائے گا۔مگران کا صرف یہی کام نہیں بلکہ اور بھی کئی کام ہیں۔