مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 136
136 عار نہیں سمجھتے۔وہاں بھی ایسے لوگ ہیں جو دوسروں سے کام لیتے ہیں مگر سفر وغیرہ کے مواقع پر اسباب اٹھانے میں وہ بھی تامل نہیں کرتے۔غرض کام نہ کرنے کی عادت انسان کو بہت خراب کرتی ہے۔کسی ملک میں جو مثالیں بنی ہوئی ہوتی ہیں وہ دراصل اس ملک کی حالت پر دلالت کرتی ہیں اور قوم کا کیریکٹر ان میں بیان ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ مشہور ہے کہ کوئی سپاہی سفر پر جا رہا تھا کہ اسے آوازیں آنی شروع ہو ئیں کہ میاں سپاہی ! ذرا ادھر آنا اور جلدی آنا۔بڑا ضروری کام ہے۔وہ ایک ضروری کام سے جار ہا تھا اور پچاس ساٹھ گز کے فاصلہ سے اسے یہ آواز آرہی تھی مگر خیر وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دو آدمی لیے ہوئے ہیں ان میں سے ایک اسے کہنے نگا کہ میاں سپاہی ! یہ میری چھاتی پر پیر پڑا ہے اسے اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا اور اس نے اسے گالیاں دیں اور کہا کہ تو بڑا نالائق ہے۔میں ضروری سفر پر جا رہا تھا تم نے مجھے پچاس ساٹھ گز کے فاصلہ پر سے بلایا۔تمہاری چھاتی پر بیر تھا جسے تم خود بھی اٹھا کر کھا سکتے تھے۔تم کوئی لولے لنگڑے تو نہ تھے کہ مجھے اتنی دور سے بلایا۔اس پر دوسرے شخص نے کہا کہ میاں سپاہی ! جانے دو کیوں اتنا غصہ کرتے ہو۔یہ شخص تو ہے ہی ایسا۔یہ کسی کام کا نہیں اور اس قابل نہیں کہ اس کی اصلاح ہو سکے۔اس کی سستی کی تو یہ حالت ہے کہ ساری رات کتا میرا منہ چاہتا رہا اور اس سے اتنا نہ ہو سکا کہ اسے ہشت ہی کر دے۔اس مثال میں ہمارے ملک کی بے عملی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہر ملک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں مگر یہاں بہت زیادہ ہیں یہاں جو کام کرنے والے ہیں۔وہ بھی بہت ست ہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ یہاں جو مزدور اینٹیں اٹھاتے ہیں وہ اس طرح ہاتھ لگاتے ہیں کہ گویادہ انڈے ہیں۔آہستہ آہستہ اٹھاتے ہیں اور پھر اٹھاتے اور رکھتے وقت کمر سیدھی کرتے ہیں پھر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کہتے ہیں کہ لاؤ ذرا حقہ کے تو روکش لگالیں۔لیکن ولایت میں میں نے دیکھا ہے کہ حالت ہی اور ہے۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو میں نے ایک دفعہ توجہ دلائی۔انہوں نے کہا میرا بھی خیال اسی طرف تھا۔گویا ایک ہی وقت دونوں کو اس طرف توجہ ہوئی۔حافظ صاحب نے کہا کہ ان لوگوں کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہو تاکہ یہ کام کر رہے ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگی ہوئی ہے اور بجھارہے ہیں۔کوئی سستی ان میں نظر نہیں آتی۔ایک دفعہ ہم گھر میں بیٹھے تھے۔کھڑکی کھلی ہوئی تھی کہ گلی میں چند عورتیں نظر آئیں جو لباس سے آسودہ حال معلوم ہوتی تھیں مگر نہایت جلدی جلدی چل رہی تھیں۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ ان کو کیا ہو گیا ہے۔حافظ صاحب ذہین آدمی تھے ، سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ میں نے یہاں کسی کو چلتے دیکھا ہی نہیں سب لوگ یہاں دوڑتے ہیں۔غرض وہاں کے لوگ ہر کام ایسی مستعدی سے کرتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں جدھر دیکھو۔سخت غفلت اور ستی چھائی ہوئی ہے۔کسی کو چلتے دیکھو تو ستی کی ایسی لعنت ہے کہ چاہتا ہے ہر قدم پر کیلے کی طرح گڑ جائے۔یہاں جو کام کرنے والے ہیں وہ بھی گویا سکتے ہی ہیں۔اور جو ست ہیں وہ کام کرتے ہی نہیں۔ان سے تو اللہ کی پناہ۔ان کی حالت تو وہی ہے کہ بیر اٹھا کر منہ میں ڈال نہیں سکتے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کے ساتھی کی ، جس نے کہا تھا کہ ساری