مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 137
137 رات کتا میرا منہ چاہتا رہا اور اس نے ہشت نہ کی۔کمبخت تو نے آپ ہی کیوں نہ ہشت کہہ دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول ایک شخص کے متعلق سنایا کرتے تھے۔وہ ایک گاؤں کا رہنے والا اور اچھا مخلص احمدی تھا۔زمین وغیرہ اچھی تھی اور باپ نے کچھ روپیہ بھی چھوڑا تھا۔وہ یہاں آیا اور شہری لوگوں سے اس کے تعلقات ہوئے تو دماغ بگڑ گیا اور لگار و پید اڑانے۔جس کے نتیجہ میں روپیہ میں کمی آنے لگی۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اسے کام کرنے کی طرف توجہ دلائی تو اس نے کہا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر میں لا ہو ر جاؤں اور میرے پاس کوئی ٹرنک یا اسباب نہ ہو تو اپنا رومال قلی کو پکڑا دیتا ہوں تاکہ دیکھنے والے یہ تو سمجھیں تا کوئی شریف آدمی جا رہا ہے۔شریف بننا کوئی آسان کام تو نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی ساری دولت لٹادی اور آخر لڑکیوں کو ساتھ لے کر عیسائی ہو گیا۔اس کی لڑکیاں بھی اب عیسائی ہیں گو ان میں سے بعض دل میں سمجھتی ہوں کہ عیسائیت سچاند ہب نہیں مگر بہر حال وہ عیسائی ہیں۔تو کام کرنے کی عادت ڈالنا نہایت ہی اہم چیز ہے اور اسے جماعت کے اندر پیدا کرنا نہایت ضروری ہے تا جو لوگ ست ہیں وہ بھی چست ہو جائیں اور ایسا تو کوئی بھی نہ رہے جو کام کرنے کو عیب سمجھتا ہو۔جب تک ہم یہ احساس نہ مٹادیں کہ بعض کام ذلیل ہیں او ر ان کو کرنا کوئی جائز کام اور پیشہ ذلیل نہیں ہنگ ہے یا یہ کہ ہاتھ سے کام کما کر کھانا ذلت ہے اس وقت تک ہم دنیا سے غلامی کو نہیں مٹا سکتے۔لوہار بڑھئی، دھوبی نائی غرض یہ کہ کسی کا کام ذلیل نہیں۔یہ سارے کام دراصل لوگ خود کرتے ہیں۔ہر شخص تزئین کرتا ہے۔اپنی داڑھی مونچھوں کی صفائی کرتا ہے۔یہی حجام کا کام ہے۔بچہ پیشاب کر دے تو امیر غریب ہر ایک اسے دھوتا ہے جو دھوبی کا کام ہے۔تو یہ سب کام انسان کسی نہ کسی رنگ میں خود کرتا ہے۔مگر اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ لگے اور خود بھی محسوس نہ کرے۔لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایسے رنگ میں کرے کہ وہ سمجھتا ہو کہ گو یہ کام برا سمجھا جاتا ہے مگر دراصل برا نہیں اور اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ہر انسان اپنی طہارت کرتا ہے۔یہ کیا ہے ؟ یہی چوہڑوں والا کام ہے اور جب تک کوئی شخص یہ چوہڑوں والا کام نہ کرے لوگ اسے پاگل سمجھتے ہیں اور اس سے زیادہ غلیظ اور کوئی ہوتا نہیں۔تو جب تک ایسے تمام کام کرنے کی عادت نہ ہو ان کے کرنے والوں کی اصلاح بری لگتی ہے۔جیسے یہاں چوہڑوں کی اصلاح پر بعض لوگوں کو گھبراہٹ ہوئی تھی۔حالانکہ مکہ اور مدینہ میں کوئی چوہڑے نہ ہوتے تھے۔آخر وہاں گزارہ ہوتا ہی تھا اور اب تو ولایت میں بلکہ ہندوستان میں بمبئی اور کلکتہ وغیرہ میں بھی ایسے پاخانے بنا دئے گئے ہیں کہ چوہروں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔لاہور میں بھی اس کا انتظام زیر تجویز ہے۔پاخانہ میں جاؤ تو نلکے لگے ہوئے ہیں فارغ ہونے کے بعد نلکا کھول دو۔زمین کے نیچے سرنگیں بنی ہوئی ہیں جن میں سے پاخانہ بہہ کر جنگل میں چلا جاتا ہے اور وہاں کھاد کے کام آتا ہے۔بہر حال کسی جماعت کا یہ خیال کرنا کہ اس کے بعض افراد گندے ہیں اور بعض اچھے ہیں ، ایسا ذلیل خیال ہے کہ اس سے زیادہ ذلیل اور نہیں ہو سکتا۔اگر واقعی کسی کے اندر گند ہے تو اس کی اصلاح