مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 120

120 ہاتھ میں دی گئی ہے۔تم نوجوانوں میں قومی دیانت بھی پیدا کرو تم نوجوانوں میں تجارتی دیانت بھی پیدا کرو اور تم نوجوانوں میں اخلاقی دیانت بھی پیدا کرو۔تجارتی دیانت کے معنے صرف تجارت اور لین دین کے معاملات میں ہی دیانت تجارتی دیانت کا مفہوم دارانہ رویہ اختیار کرنے کے لئے نہیں بلکہ نوکری بھی اس میں شامل ہے کیونکہ نوکر اپنا وقت دوسرے کو دیتا ہے۔پس جس طرح ہر تاجر کا فرض ہے کہ وہ تجارت میں دیانتداری سے کام لے اسی طرح ہر ملازم کا بھی فرض ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ کام کرے۔دیا : نتدار نوکر کی ہر کوئی قدر کرتا اور اسے بلا بلا کر رکھتا ہے۔لیکن اگر کسی کے متعلق ثابت ہو جائے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ کام نہیں کر تا تو اس کی قدر دلوں سے اٹھ جاتی ہے۔پس قومی دیانت، تجارتی دیانت اور اخلاقی دیانت اپنے اندر پیدا کرو۔اخلاقی دیانت کے معنے یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ اپنے قول کی بیچ کرنے پر تم اخلاقی دیانت کا مفہوم کو نقصان پہنچتا ہو اپنے قوم کی بچ کرتے ہوئے نقصان اٹھا کر بھی اپنے قول کو پورا کرو اور اسے ضائع نہ ہونے دو۔ایک قصہ مشہور ہے جو گو ہماری ہی قوم کا ہے مگر افسوس ہے کہ ہماری روایتیں بھی ہمارے ذریعہ محفوظ نہیں بلکہ انگریزوں کے ذریعہ محفوظ ہیں۔جب ہم مدرسہ میں پڑھا کرتے تھے ، اس وقت ریڈیو میں ایک یوسف ہسپانوی کا قصہ آتا تھا جو اخلاقی دیانت کی بہترین مثال ہے۔یوسف سپین کا ایک مشہور تاجر اور رئیس تھا۔ایک دفعہ کسی شخص نے اس کے اکلوتے لڑکے کو قتل کر دیا۔یوسف کو اس کا علم نہیں تھا کہ اس کا لڑکا مارا گیا ہے۔پولیس اس قاتل کے پیچھے بھاگی اور وہ قاتل آگے آگے بھاگا۔دوڑتے دوڑتے وہ شخص اسی مکان کے اندر آ گیا جہاں یوسف رہتا تھا اور اس سے کہنے لگا کہ مجھے پناہ دو۔پولیس میرے تعاقب میں آرہی ہے۔اسے معلوم نہ تھا کہ میں نے اسی شخص کے بیٹے کو قتل کیا ہے اور یوسف کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ میرے بیٹے کا قاتل ہے۔عربوں کا یہ ایک خاص قومی کیریکٹر ہے کہ جب ان کے گھر میں کوئی شخص آکر ان سے پناہ کا طلب گار ہو تو وہ انکار نہیں کر سکتے اور اسے ضرور پناہ دے دیتے ہیں۔یوسف نے بھی کہا کہ بہت اچھا تم میری پناہ میں ہو۔تھوڑی دیر کے بعد پولیس والے آئے اور انہوں نے پوچھا کہ یہاں کوئی شخص دوڑتے دوڑتے آیا ہے وہ ایک شخص کا قاتل ہے اور ہم اسے گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔یوسف نے کہا یہاں تو کوئی نہیں۔دراصل یوسف نے اسے ادھر ادھر گھر میں کہیں کھسکا دیا تھا۔اس طرح اپنی بات بھی کچی کرلی اور واقعہ بھی ظاہر نہ ہونے دیا چنانچہ پولیس واپس چلی گئی۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ نوکر اس کے لڑکے کی لاش اٹھا کر پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ اسے ابھی کسی شخص نے قتل کر دیا ہے۔وہ اپنے لڑکے کی لاش دیکھتے ہی ساری حقیقت سمجھ گیا اور بھانپ گیا کہ جس شخص کو میں نے پناہ دی ہے وہی، میرے لڑکے کا قاتل ہے مگر اس کے اندر کوئی لغزش پیدا نہ ہوئی اور اس نے پھر بھی پولیس کو یہ نہ بتا۔کہ جس شخص نے میرے بیٹے کو قتل کیا ہے اسے میں نے فلاں جگہ چھپارکھا ہے۔جب لوگ ادھر ادھر ہو گئے تو وہ اس شخص کے پاس گیا اور اسے کہا کہ جس شخص کو تم نے مارا ہے وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے مگر چونکہ میں تمہیں پناہ دینے