مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 121
121 کا وعدہ کر چکا ہوں اس لئے میں تجھے کچھ نہیں کہتا بلکہ میں خود تجھے بھاگنے کا سامان دیتا ہوں۔یہ میری اونٹنی لے اور یہ سامان اس پر لاد اور یہاں سے کسی دوسری طرف نکل جا چنانچہ وہ اونٹنی پر سوار ہوا اور بھاگ کر کسی اور علاقہ کی طرف نکل گیا۔یہ اخلاقی دیانت ہے۔اس میں اس کا اپنا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان تھا مگر چونکہ وہ قول دے چکا تھا اور اس میں کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی نہیں تھی اس لئے اس نے اپنا قول نہ چھوڑا اور گو دوسرے شخص نے اس کے اکلوتے بیٹے کو مار دیا تھا مگر پھر بھی اس کی جان کو بچا دیا۔تو فردی دیانت بھی نہایت اہم ہوتی اور دلوں کو ہلا دیتی ہے۔اسی طرح ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص قتل کے جرم میں پکڑا گیا۔اس نے کہا کہ مجھے کچھ مہلت دیجئے کیونکہ میرے پاس بعض یتامی کی امانتیں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ گھر جا کر وہ امانتیں انہیں واپس کر دوں۔وہ ایک بدوی تھا اور بدویوں کا پکڑنا نہایت مشکل ہو تا ہے کیونکہ سینکڑوں میل کا صحرا ہو تا ہے جس میں وہ رہتے ہیں اور آج اگر یہاں ہوتے ہیں تو کل وہاں۔کوئی ایک مقام ان کا ہو تا نہیں کہ وہاں انہیں تلاش کیا جاسکے اور اگر ہاتھ سے نکل جائیں تو پھر ان کا ڈھونڈنا بہت مشکل ہو تا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کوئی ضمانت دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں۔بغیر ضمانت کے ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ایک صحابی کی طرف جو ابو ذر یا ابوالدردا تھے مجھے اس وقت صحیح نام یاد نہیں اشارہ کر کے کہا یہ میرے ضامن ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا ضمانت دیتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔اب ایک قاتل کی ضمانت دینے کے معنے یہ تھے کہ اگر وہ مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو مجھے مار ڈالنا۔ان کی ضمانت پر حضرت عمر رضی اللہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔جب وہ دن آیا جو اس کی سزا کے لئے مقرر تھا تو لوگ اس بدوی کا انتظار کرنے لگے کہ کب آتا ہے مگر وقت گذرتا جائے اور اس کی آمد کا کوئی پتہ نہ لگے۔آخر اس صحابی کے دوستوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور انہوں نے اس سے پوچھا کہ آپ جانتے بھی ہیں وہ ہے کون؟ انہوں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں وہ کون تھا؟ وہ کہنے لگے تو پھر آپ نے ضمانت کیوں دی ؟ انہوں نے کہا اس نے مجھ پر اعتبار کیا تھا تو میں کیوں اعتبار نہ کرتا۔خیران کے دوستوں کے دلوں میں بے چینی پیدا ہو گئی کہ نہ معلوم اب کیا ہو گا۔مگر جب عین وہ وقت پہنچا جو اس کی سزا کے لئے مقرر تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ دور سے ایک غبار اڑتا چلا آ رہا ہے۔سب لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگ گئیں۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری کہ انہوں نے دیکھا ایک سوار نہایت تیزی سے گھوڑا دوڑا تا چلا آ رہا ہے یہاں تک کہ گھوڑے کا پیٹ زمین سے لگ رہا ہے۔جب وہ قریب پہنچا تو ادھر وہ گھوڑے سے اترا اور ادھر اس گھوڑے نے دم دے دیا اور مرگیا۔یہ سوار وہی شخص تھا جس کی اس صحابی نے ضمانت دی تھی۔وہ کہنے لگا میرے پاس امانتیں کچھ زیادہ تھیں ان کو واپس کرنے میں مجھے دیر ہو گئی اور میں اپنے گھوڑے کو مار تا ہوا اسے نہایت تیزی سے دوڑا تا ہوا یہاں پہنچا تاکہ میرے ضامن کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔تو دیانت ایسی چیز ہے کہ باوجود اس کے ان واقعات پر سینکڑوں سال گزر گئے آج بھی ہم ان واقعات کو پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہو تا ہے کہ ہم اس گناہ سے بھری ہوئی