مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 115

115 اودھ کی حکومت بھی اسی طرح تباہ ہوئی۔وہاں کے لوگوں کا تمام روپیہ کلکتہ کے انگریزی بنک میں جمع تھا۔جب انگریزوں نے اس علاقہ پر حملہ کیا تو انہوں نے لوگوں کو کہا بھیجا کہ اگر تم نے ذرا بھی ہمارے خلاف آواز اٹھائی یا مقابلہ کیا تو تمہارا تمام روپیہ ضبط کر لیا جائے گا۔جب تک ان کے روپے جمع نہیں تھے اس وقت تک تو انہیں یہ لالچ دیا گیا کہ اگر تم اپنے روپے ہمارے بنک میں جمع کرو گے تو تمہیں بہت کچھ سود ملے گا۔اور جب روپیہ جمع ہو گیا اور اودھ پر انہوں نے حملہ کی تیاری کی تو سب کو نوٹس دے دیا کہ اگر تم نے ہمارا مقابلہ کیا تو سب روپیہ ضبط کر لیا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب انگریزی فوج اندر داخل ہوئی تو ایک شخص بھی ان کے مقابلے کے لئے کھڑا نہ ہوا۔اب اس میں بھلا انگریزوں یا کسی اور قوم کا کیا قصور ہے۔یہ خود اپنی قوم کا قصور ہے کہ لوگ اپنے اخلاق کی کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جب کبھی ہندوستان میں کانگریس کا شور بلند ہوا ہے میں نے ہمیشہ انہیں یہی کہا ہے کہ تم اس وقت تک حکومت نہیں کر سکتے جب تک لوگوں کے اند ر بد دیانتی پائی جاتی ہے۔ہاں اگر قومی طور پر تم دیانت کو لوگوں کے اندر قائم کر دو تو پھر میں اس بات کا ذمہ وار ہوں کہ انگریز آپ ہی آپ تم سے صلح کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے۔اب بھی دیکھ لو کیا ہو رہا ہے۔گو کئی صوبوں میں کانگرسی وزارتیں قائم ہو چکی ہیں مگر انہی صوبوں میں خطرناک طور پر رشوتیں چل رہی ہیں اور اب تو گاندھی جی نے بھی اخبار میں لکھا ہے کہ بعض واقعات میرے سامنے ایسے آئے ہیں جن سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔تو جب تک کسی قوم میں دیانت نہیں اس وقت تک نہ اس قوم میں حکومت رہ سکتی ہے نہ حکومت لے سکتی ہے اور اگر بالفرض وہ کبھی اپنی کثرت تعداد کی بناء پر حکومت لے بھی لے تو وہ حکومت کو سنبھال نہیں سکتی۔مگر یہ چیز صرف حکومت سے تعلق نہیں رکھتی کہ یہ کہا جائے کہ آپ حکومتوں کی بات لے بیٹھے ہیں جماعت احمدیہ کی بات کیوں نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور جتھا حکومتوں سے ہی وابستہ نہیں ہو تا بلکہ قوموں سے بھی وابستہ ہو تا ہے اور بعض تو میں تو تلوار سے جیتی ہیں اور بعض نظام اور تبلیغ سے جیتی ہیں۔ہماری جماعت تلوار سے جیتنے جماعت احمد یہ جیسے جمالی سلسلوں کے لئے قومی دیانت کی اہمیت والی نہیں بلکہ نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی ہے اور نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی جماعتوں کو دیانت کی ان جماعتوں سے بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو تلوار سے جیتی ہیں اس لئے کہ جن قوموں کے پاس تلوار ہو وہ تو بد دیانتوں کا تلوار سے سرا ڑا سکتی ہیں مگر جن کے پاس تلوار نہ ہوا نہیں بد دیانتی بہت زیادہ نقصان پہنچایا کرتی ہے کیونکہ ان کے پاس بد دیانتوں کا کوئی علاج نہیں ہو تا۔انگریزوں میں یا فرانسیسیوں میں یا جرمنوں میں جب کوئی شخص غداری کرتا ہے تو انگریز ، فرانسیسی اور جر من اس پر مقدمہ کرتے اور مجرم ثابت ہونے پر اسے مار ڈالتے ہیں۔مگر جن کے پاس حکومت نہیں ہوتی اور جو تلوار سے کامیاب نہیں ہونا چاہتے بلکہ نظام اور تبلیغ سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں ان میں جب کوئی غدار پیدا ہو جاتا