مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 114
114 ہندوستان کے ایک گوشہ سے بھرے ہوئے بادل کی طرح بڑھنا شروع کر دیتی ہیں اور سارے ملک پر چھا جاتی ہیں۔مرہٹوں کی طاقت یا نظام حیدر آباد کی طاقت کے مقابلہ میں مدراس میں انگریزوں کی دسویں حصہ کے برابر بھی طاقت نہیں تھی۔اسی طرح سراج الدولہ کی طاقت کے مقابلہ میں بنگال میں انگریزوں کی طاقت دسویں حصہ کے بھی نہ تھی مگر باوجود اس کے مقابلہ میں وہ ہار جاتے ہیں اور انگریز جیت جاتے ہیں۔1 اس تمام فتح اور شکست کی تہہ میں ایک وجہ نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے وزراء اور افسررشوت خور تھے یا وہ کسی اور لالچ میں آجاتے تھے۔اگر یہ بد دیانتی نہ ہوتی تو کبھی ہندوستان پر انگریزی حکومت قائم نہ ہو سکتی لیکن اس بد دیانتی کی موجودگی میں اگر انگریزی حکومت نہ ہوتی تو فرانسیسی حکومت ہوتی۔اگر فرانسیسی حکومت نہ ہوتی تو ہر تگیزی حکومت ہوتی۔اگر ہر تگیزی حکومت نہ ہوتی تو کوئی اور حکومت ہوتی۔بہر حال یہ ملک اس قابل نہ تھا کہ اپنا بوجھ آپ اٹھا سکتا۔بد دیانتی کے بوجھ نے ان لوگوں کی کمریں خم کر دی تھیں اور لالچ کے بار ان لوگوں کو ایسا جھکا دیا تھا کہ وہ شریف لوگوں میں سیدھا چلنے کے قابل نہیں رہے تھے۔وہ شکار تھے دنیا کا۔اگر انگریز نہ آتے تو کوئی اور آتا۔بہر حال وہ خود اپنی حکومت سنبھالنے کے نا قابل تھے۔اوپر سے لے کر نیچے تک سب جگہ بد دیانتی پائی جاتی تھی۔پھر وسط ہند میں آکر لکھنو اور اس کے بعد دہلی میں جو کچھ ہوا وہ بھی بددیانتی کا کرشمہ ہے۔غدر" کی بغاوت جب ہوئی تو اس وقت ہندوستانیوں نے چاہا کہ اپنے آپ کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرلیں اور ایسے کئی مواقع آئے جبکہ دہلی کی حکومت غالب آنے کے بالکل قریب تھی لیکن خود ملک کے اندرونی غداروں اور بد دیانتوں نے ان مواقع کو ضائع کر دیا۔یہ مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ ایک موقعہ پر انگریزی فوج پر نہایت آسانی کے ساتھ گولہ باری کی جاسکتی تھی۔میں نے خود دہلی میں وہ موقعہ دیکھا ہے۔مگر زینت محل جو بادشاہ کی چہیتی ملکہ تھی اسے انگریزوں نے رشوت دے رکھی تھی اور اسے کہا تھا کہ اگر تم ہمار ا ساتھ دو گی تو تمہارے بیٹے کو تخت مل جائے گا۔جب دہلی کے فوجی افسروں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ قلعہ پر تو ہیں رکھ کر چلائی جائیں اور بادشاہ نے بھی ان کا مشورہ قبول کر لیا تو انگریزی فوج کی طرف سے زینت محل کو پیغام پہنچا کہ اگر تم نے اس موقعہ پر تو ہیں چلنے دیں تو تمہاری تمام امیدیں ہوا ہو جائیں گی۔تریا چر تر تو ہمارے ملک میں مشہور ہی ہے۔جب بادشاہ نے تو میں چلانے کا حکم دیا تو بیگم کو بناوٹی طور پر غش پر غش آنے لگ گئے اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ توپ کی آواز سے میرا دل دہل جاتا ہے۔اگر آپ نے تو پوں کا چلنا بند نہ کیا تو میں مرجاؤں گی۔پس خدا کے لئے تو پوں کا چلنا بند کرائیں اور اگر تو ہیں چلانا ضروری ہے تو اپنے ہاتھ سے پہلے مجھے قتل کر دیں تا کہ میں ان کی آواز نہ سن سکوں۔بادشاہ بھی دھوکے میں آگئے اور گولہ باری کا حکم منسوخ کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک ہی مقام جہاں سے کامیابی کے ساتھ انگریزی فوجوں پر حملہ ہو سکتا تھا۔اس پر سے گولہ باری بند کر دی گئی اور انگریزی فوجیں غالب آگئیں۔خود بادشاہ کا وزیر اعظم اندر سے انگریزوں سے ملا ہوا تھا اور انگریزوں کو با قاعدہ اندرونی خبریں پہنچتی رہتی تھیں۔