مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 87
87 اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور جماعتیں بھی اپنے فرض کو سمجھیں اور جو لوگ اس میں داخل نہیں انہیں مجبور کریں کہ وہ اس میں داخل ہوں اور جو داخل ہو چکے ہیں ان کی نگرانی کریں کہ آیا وہ پروگرام کے مطابق عمل کرتے ہیں یا نہیں۔عورتوں کی تربیت کے لحاظ سے میں نے اس کی دوسری شاخ لجنہ اماءاللہ کے نام سے قائم کی ہوئی ہے۔یہ لجنہ صرف دو جگہ اچھا کام کر رہی ہے ایک قادیان میں دوسرے سیالکوٹ میں۔قادیان میں لجنہ کا زیادہ تر کام جلسے کرانا سلسلہ کے کاموں سے عورتوں کو واقف رکھنا، صنعت و حرفت کی طرف غریب عورتوں کو متوجہ کرنا اور انہیں کام پر لگانا۔یہ کام گو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے لیکن اگر استقلال اور ہمت سے اس کام کو جاری رکھا گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ بیواؤں اور یتامی کا مسئلہ حل کرنے میں کسی دن کامیاب ہو جائیں گی۔لجنہ کے اس کام میں تاجروں کی امداد کی بھی ضرورت ہے۔انہیں چاہئے کہ لجنہ جو چیزیں بنوائے وہ انہیں بیچ دیا کریں۔اس میں ان کا بھی فائدہ ہو گا۔کیونکہ آخر وہ نفع ہی پر بیچیں گے اور غرباء کا بھی فائدہ ہے کہ ان کے گزارہ کی صورت ہوتی رہے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس کام کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نہ صرف قادیان میں بلکہ بیرونی جماعتوں میں بھی کوئی بیوہ اور غریب عورت ایسی نہ رہے جو کام نہ ملنے کی وجہ سے بھو کی رہتی ہو۔ہمارے ملک میں یہ ایک بہت بڑا عیب ہے کہ بھوکا رہنا پسند کریں گے مگر کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی اصلاح ہونی چاہئے اور یہ مانگ کر کھانے کی بجائے کما کر کھانا چاہئے اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ مانگ کر نہیں کھائے گا بلکہ کما کر کھائے گا۔اگر کوئی شخص کام کو عیب سمجھتا اور پھر بھوکا رہتا ہے تو اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔لیکن اگر ایک شخص کام کیلئے تیار ہو لیکن بوجہ کام نہ ملنے کے وہ بھوکا رہتا ہو تو یہ جماعت اور قوم پر ایک خطرناک الزام اور اس کی بہت بڑی بہتک اور سبکی ہے۔پس کام مہیا کرنا جماعتوں کے ذمہ ہے لیکن جو لوگ کام نہ کریں اور سستی کر کے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالیں ان کی ذمہ داری جماعت پر نہیں بلکہ ان کے اپنے نفسوں پر ہے کہ انہوں نے باوجود کام ملنے کے محض نفس کے کسل کی وجہ سے کام کرنا پسند نہ کیا اور بھوکا رہنا گوارا کر لیا۔میرا پروگرام یہ ہے کہ لجنہ کا کام جب یہاں کامیاب ہو جائے تو باہر بھی اسے جاری کیا جائے۔یہاں تک کہ کوئی بیوہ اور یتیم عورت ایسی نہ رہے جو خود کام کر کے اپنی روزی نہ کماتی ہو۔اس جد وجہد میں اگر ہم کامیاب ہو جائیں تو پھر انہی لوگوں کا بار جماعت پر رہ جائے گا جو بالکل ناکارہ ہیں۔جیسے اندھے ہوئے یا لولے اور اپاہج ہوئے۔گوہر اندھا نا کارہ نہیں ہو تا بلکہ کئی اندھے بھی بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔بہر حال جس حد تک اندھوں وغیرہ کیلئے بھی کام مہیا ہو سکتا ہو اس حد تک ہمیں ان کے لئے بھی کام مہیا کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود کام کر کے کھائیں۔