مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 84
84 کریں اور ان کے دلوں میں انبیاء کی تعلیمات کو مضبوطی سے گاڑ دیں اور اس طرح مذہب کی طاقت کو بڑھاتے جائیں۔ایک لمبے عرصہ کے بعد جب عالمگیر تنزل ہو جائے تو اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مصلح نبی مبعوث ہوا کرتا ہے ، اس سے پہلے نہیں۔ہمارا جو زمانہ ہے یہ بھی ایسا نہیں کہ اس میں جلدی ہی کوئی اور نبی مبعوث ہو۔ہم اللہ تعالی کی طاقتوں کو محدود نہیں کرتے۔اس سے یہ کوئی بعید بات بھی نہیں کہ وہ کسی اور نبی کو بھیج دے لیکن بظاہر یہ ایسا زمانہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جماعت کو ایک نئے نبی کی قیادت میں کام کرنے کی بجائے خلفاء موعود و غیر موعود کی قیادت کے ماتحت کام کرنا ہو گا۔پس ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں تک اسلام تربیت اولاد ایک اہم فرض ہے کی تعلیم کو محفوظ رکھتا چلا جائے اور در حقیقت اسی غرض کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ کی انجمن قائم کی ہے تا جماعت کو یہ احساس ہو کہ اولاد کی تربیت ان کا اہم ترین فرض ہے۔رسول کریم ملا ل ا ل لا میں نے یہ نکتہ ایسے اعلیٰ طور پر بیان فرمایا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہ امر ہر شخص جانتا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی اصلاح میں سے مقدم اصلاح لڑکیوں کی ہوتی ہے کیونکہ وہ آئندہ نسل کی مائیں بننے والی ہوتی ہیں اور ان کا اثر اپنی اولاد پر بہت بھاری ہو تا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو قوم عورتوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتی مرد و زن دونوں کی اصلاح کی اہمیت اس قوم کے مردوں کی بھی اصلاح نہیں ہوتی۔اور جو قوم مردوں اور عورتوں دونوں کی اصلاح کی فکر کرتی ہے ، وہی خطرات سے بالکل محفوظ ہوتی ہے۔رسول کریم میں نے اس نکتہ کو کیا ہی لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا ہے۔آپ ایک دفعہ مجلس میں بیٹھے تھے۔صحابہ آپ کے گرد حلقہ باندھے تھے۔آپ نے فرمایا جس مسلمان کے گھر میں تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرے تو اس مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔اب بظا ہر کوئی ایسا شخص جو قومی ترقی کے اصول سے ناواقف ہو کہہ سکتا ہے کہ یہ کونسی بات ہے۔بھلا تین لڑکیوں کی اصلاح سے جنت مل سکتی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تین لڑکیوں کی تربیت کوئی ایسی اہم بات نہیں۔حالانکہ جو شخص تین لڑکیوں کی اچھی تربیت کرتا ہے وہ صرف تین کی ہی تربیت نہیں کرتا بلکہ ہزاروں لاکھوں اسلام کے خادم پیدا کرتا ہے۔کیونکہ وہ لڑکیاں اچھے لڑکے پیدا کرنے کا موجب بنیں گی اور وہ لڑکے اسلام کے لئے اچھے قربانی کرنے والے ثابت ہوں گے۔آج کل لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ ایک کان سے بات سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔مگر صحابہ پر اللہ تعالیٰ نے بے انتہا کرم نازل فرمائے ان میں یہ ایک ایسی صحابہ کرام کی ایک خاص خوبی خوبی تھی کہ اسے دیکھ کر دل عش عش کر اٹھتا ہے کہ وہ رسول کریم کے چھوٹے سے چھوٹے فقرہ کی بھی بڑی قدر کرتے تھے۔اب یہی روایت جو میں نے بیان کی ہے اس زمانہ کے لوگ اسے سنیں تو اکثر ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیں گے گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی ، بلکہ