مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 784 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 784

784 لوگ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو دیا کرتے تھے اور خلافت کی تائید میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے جو دعوے کئے ہیں وہ بھی نقل کر دیئے گئے ہیں۔تم اس موقعہ پر اخبارات سے یہ حوالے پڑھ کر سناؤ۔اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منالیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پرانے واقعات یاد ہو جایا کریں گے۔پھر تم یہ جسے قیامت تک کرتے چلے جاؤ تا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت انیس سو سال سے برابر قائم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو درجہ میں ان سے بڑے ہیں خدا کرے کہ ان کی خلافت دس ہزار سال تک قائم رہے مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم سال میں ایک دن اس غرض کے لئے خاص طور پر منانے کی کوشش کرو۔میں مرکز کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر سال سیرت النبی کے جلسوں کی طرح خلافت ڈے منایا کرے اور ہر سال یہ بتایا کرے کہ جلسہ میں ان مضامین پر تقاریر کی جائیں۔الفضل سے مضامین پڑھ کر نوجوانوں کو بتایا جائے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے خلافت احمدیہ کی تائید میں کیا کچھ فرمایا ہے اور پیغامیوں نے اس کے رد میں کیا کچھ لکھا ہے اسی طرح وہ رویا و کشوف بیان کئے جایا کریں جو وقت سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھائے اور جن کو پورا کر کے خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ اس کی برکات اب بھی خلافت سے وابستہ ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے مری میں ایک خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا کہ تم درود کثرت سے پڑھا کرو۔نبی کثرت سے کیا کرو۔دعائیں کثرت سے کیا کرو تا خدا تمہیں رویا اور کشوف دکھائے۔پرانے احمدی جنہیں رویا اور کشوف ہوتے تھے ، اب کم ہو رہے ہیں۔میں نے دیکھا تھا کہ خطبہ کے تھوڑے ہی دن بعد مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کی ہدایات کے مطابق ہم نے درود پڑھنا شروع کیا، تسبیح پڑھنا شروع کی اور دعاؤں پر زور دیا تو ہمیں خدا تعالیٰ نے رویا اور کشوف سے نوازا۔ان دنوں ڈاک میں اکثر چٹھیاں اس مضمون کی آیا کرتی تھیں اور انہیں پڑھ کر لطف آیا کرتا تھا۔اب ان چٹھیوں کا سلسلہ کم ہو گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ درود پڑھنے ، تسبیح کرنے اور دعائیں کرنے کی عادت پھر کم ہو گئی ہے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ سے بات کرنا معمولی امر نہیں۔خدا تعالیٰ سے بات کرنا بڑے ایمان کی بات ہے۔اگر کہیں صدر پاکستان سکندر مرزا آجائیں اور تمہیں پتہ لگ جائے کہ تم میں سے ہر ایک کو ان سے ملاقات کا موقع مل جائے گا تو تمہیں کتنی خوشی ہو اور تم کتنے شوق سے ان کی ملاقات کے لئے جاؤ پھر اللہ تعالیٰ جو کائنات عالم کا مالک ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجنے والا ہے، اس کے متعلق اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ ہر ایک سے مل سکتا ہے تو کتنی بد قسمتی ہو گی کہ اس سے ملنے کی کو شش نہ کی جائے۔پس تم خد ابعالی سے عاجزانہ دعائیں کرو اور کہو اے خدا ہم تیرے کمزور بندے ہیں تو ہمیں طاقت دے تو ہمیں بیچ دکھا اور تم ہم سے کلام کر تاکہ ہمارے دلوں کو اطمینان میسر ہوں پھر جب کہ میں نے بار ہا بتایا ہے میری بیماری دعاؤں ے تعلق رکھتی ہے اس لئے تم یہ بھی دعائیں کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے کام والی زندگی عطا فرمائے اور مجھے دنیا میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کرنے کی توفیق دے۔دیکھو میرا ہر کام تمہاری طرف ہی منسوب ہو تا ہے۔آگر