مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 719 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 719

719 جانتا ہے کہ اس کی قوم بیوقوف ہے اور اپنی ناکامی کی صورت میں وہ اسے دھوکا دے سکتا یا اس کی قوم میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو سستی تعریف حاصل کرنے کے عادی ہیں۔اگر ناکامی کی صورت میں قوم نے اسے سزادی تو اس قسم کے لوگ ان کی سفارش لے کر افسران بالا کے پاس چلے جائیں گے۔اب اگر وہ لوگ دیانتدار ہیں اور سفارش کرنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اس قسم کی سفارشات کو رد کر دیں گے اور قومی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح دیں گے تو پھر بھی سفارش کرنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بات افسر نے تو مانی ہی نہیں۔ہاں اگر ہم سفارش لے کر اس کے پاس چلے جائیں گے تو ہم لوگوں میں مقبول ہو جائیں گے لیکن اگر وہ بد دیانت ہیں تو یقینا اس قسم کے طرز عمل سے قوم کا بیڑا غرق ہو گا کیونکہ جب بھی کسی قوم کے افراد کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ کام کا نتیجہ ان کی طرف منسوب نہیں ہو گا بلکہ وہ ناکامی کی صورت میں نتیجہ کو خداتعالی یا پھر قسمت کی طرف منسوب کریں گے یا کسی نامعلوم عصر کی طرف منسوب کر دیں گے اور اس طرح ان کی پردہ پوشی ہو جائے گی تو پوری جدوجہد کا احساس کبھی بھی ان میں پیدا نہیں ہو گا۔پس جماعت یہ فیصلہ کرے کہ اس نے محنت کرنی ہے اور پھر محنت صحیح کرنی ہے اور پھر وہ یہ فیصلہ بھی کرلے کہ اگر اس کے کسی کام کا نتیجہ خراب نکلا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جد و جہد صحیح طور پر نہیں ہوئی۔یہ کہنہ دینا کہ ایسا خد اتعالیٰ نے کیا ہے اول درجہ کا جھوٹ ہے۔خدا تعالیٰ کسی کام کا خراب نہیں نکالتا۔اگر اس کے کام کا خراب نتیجہ نکلا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اگر تم ایسا کر لو تو تمہارے اندر ایک امنگ اور ولولہ پیدا ہو جائے گا۔تمہاری جد و جہد بہت زیادہ تیز ہو جائے گی۔یورپ اور امریکہ کیوں ترقی کر رہے ہیں حالا نکہ وہ خدا تعالیٰ کے عملاً یا کچھ قولاً بھی منکر ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اول تو محنت سے کام کرتے ہیں اور پھر ناکامی کی صورت میں نتیجہ کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالتے۔اگر خدا تعالیٰ انسان کے دخل کے بغیر کام کر دیا کرتا تو امریکہ اور یورپ والے کیوں کامیاب ہوتے۔خدا تعالیٰ تمہاری مدد کر تا ان کی مدد نہ کرتا۔حال ہی میں انگلستان کے ریڈیو پر ایک عورت نے لیکچر دیا ہے اور وہ اخبارات میں چھپا ہے کہ اگر تم نے ترقی کرنی ہے تو خدا کو بالکل بھول جاؤ اور اگر خدا بنانا ضروری ہے تو اپنے اچھے کاموں کو خدا اور برے کاموں کو شیطان سمجھ لو لیکن خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار کے باوجود وہ برابر ترقی کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے مرد اور عورت دیوؤں کی طرح کام کر رہے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ ہی سب کام کر رہا ہو تا تو وہ روس امریکہ اور یورپ والوں کوست بنا دیتا اور تمہیں چست بنا دیتا لیکن حالت یہ ہے کہ تمہارے حالات خراب ہیں اور انہوں نے خوب ترقی کرلی ہے۔اب یا تو یہ کہو کہ خداتعالی ماہر نہیں اور شیطان ماہر ہے چونکہ ان کے ساتھ شیطان ہے اس لئے وہ جیت جاتے ہیں اور تمہارے ساتھ چونکہ غریب خدا ہے ، اسے کچھ آتا نہیں اس لئے تم ہر میدان میں ہار جاتے ہو او ر یا یہ کہو کہ خدا تعالیٰ تم سے بھی کچھ کام کروانا چاہتا ہے۔اگر تم محنت کرتے ہو تو وہ تمہاری مدد کرتا ہے اور اگر تم محنت نہیں کرتے تو وہ تمہاری مدد نہیں کرتا اور تم ناکام رہتے ہو اور یہی حقیقت ہے جب تک تمہارے اند را براہیم علیہ السلام والا ایمان پیدا نہیں ہوتا اور جب تک تمہارے اندر و إذا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِي والا احساس پیدا