مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 667

667 تھوڑے ہی سالوں میں مسلمان ماربڈ (Morbid) ہو گئے اور ان کے دماغ بگڑ گئے۔ان میں سے ہر قبیلہ نے یہ کوشش کی کہ وہ خلافت کو بزور حاصل کر لے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت ختم ہو گئی۔پھر مسلمانوں کے بگڑنے کا دوسر ا سبب انار کی تھی۔اسلام نے سب میں مساوات کی روح پیدا کی تھی۔لیکن مسلمانوں نے یہ نہ سمجھا کہ مساوات پیدا کرنے کے معنے یہ ہیں کہ ایک آرگنائزیشن ہو۔اس کے بغیر مساوات قائم نہیں ہو سکتی۔اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک آرگنا ئزیشن اور ڈسپلن قائم کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ یہ ڈسپلن ظالمانہ نہ ہو اور افراد اپنے نفسوں کو دبا کر رکھیں تاکہ قوم جیتے لیکن چند ہی سال میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہو نا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکام نے ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالی تو انہوں نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔انہیں یہ سمجھنا چاہئے تھ کہ یہ حکومت الہیہ ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لئے اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنا ئینگے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں۔اور جب انہوں نے یہ سمجھا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خدا تعالیٰ نے کہا۔اچھا اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ۔چنانچہ ایک وقت تک تو وہ پہلوں کا مارا ہوا شکار یعنی حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کا مارا ہوا شکار کھاتے رہے لیکن مرا ہوا شکار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔زندہ بحرا زندہ بحری، زندہ مرغا اور زندہ مرغیاں تو ہمیشہ ہمیں گوشت اور انڈے کھلا ئینگی لیکن ذبح کی ہوئی بحری یا مرغی زیادہ دیر تک نہیں جاسکتی، کچھ وقت کے بعد وہ خراب ہو جائے گی۔حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کے زمانہ میں مسلمان تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن بیوقوفی سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز ہماری ہے۔اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا اور مرغیاں اور بحریاں مردہ ہو گئیں۔آخر تم ایک ذبح کی ہوئی بحری کو کتنے دن کھالو گے۔ایک بحری میں دس بارہ سیر یا پچیس تمہیں سیر گوشت ہو گا اور آخر وہ ختم ہو جائے گا۔پس وہ بحریاں مردہ ہو گئیں اور مسلمانوں نے کھاپی کر انہیں ختم کر دیا۔پھر وہی حال ہوا کہ ”ہتھ پرانے کھونٹڑے بستے ہوری آئے۔وہ ہر جگہ ذلیل ہونے شروع ہوئے۔انہیں مارمیں پڑیں اور خدا تعالٰی کا غضب ان پر نازل ہوا۔عیسائیوں نے تو اپنی مردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن ان بد بختوں نے زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں گاڑ دیا اور یہ محض عارضی خواہشات دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جو شوں کا نتیجہ تھا۔خدا تعالیٰ نے جو وعدے پہلے مسلمانوں سے کئے تھے وہ وعدے اب بھی ہیں اس نے جب وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور آیت نمبر 56 ) فرمایا تو الذین امنوا وعملوا الصلحت فرمایا۔حضرت ابو بحر سے نہیں فرمایا۔حضرت عمرؓ سے -