مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 663
663 تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں اور وہ دوسری قدرت آنہیں سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔“ الوصیة روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 305 ) اس جگہ ہمیشہ کے یہی معنی ہیں کہ جب تک تم چاہو گے تم زندہ رہ سکو گے لیکن اگر تم سارے مل کر بھی چاہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام زندہ رہتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ہاں اگر تم یہ چاہو کہ قدرت ثانیہ تم میں زندہ رہے تو وہ زندہ رہ سکتی ہے۔قدرت ثانیہ کے دو مظاہر ہیں۔اول تائید الہی اور دوم خلافت اگر قوم چاہے اور اپنے آپ کو مستحق بنائےتو تائید الی بھی اس کے شامل حال رہ سکتی ہے اور خلافت بھی اس میں زندہ رہ سکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ إِنَّ الله لا يغير ما بقومٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا أَنفُسِهِم - یعنی الله تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدا نہ کر لے۔یہ چیز ایسی ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔کوئی جاہل سے جاہل انسان بھی ایسا نہیں ہو گا جسے میں یہ بات بتاؤں اور وہ کہے کہ میں اسے نہیں سمجھ سکایا اگر ایک دفعہ سمجھانے پر نہ سمجھ سکے تو دوبارہ سمجھانے پر بھی وہ کہے کہ میں نہیں سمجھا۔لیکن اتنی سادہ سی بات بھی قو میں فراموش کر دیتی ہیں۔انسان کا مرنا تو ضروری ہے۔اگر وہ مر جائے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا لیکن قوم کے لئے مرنا ضروری نہیں۔قومیں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں لیکن وہ اپنی ہلاکت کے سامان خود پیدا کر لیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ صحابہ کو ایک ایسی تعلیم دی تھی جس پر اگر ان کی آئندہ نسلیں عمل کرتیں تو ہمیشہ زندہ رہتیں لیکن قوم نے عمل چھوڑ دیا اور وہ مر گئی۔دنیا یہ سوال کرتی ہے اور میرے سامنے بھی یہ سوال کئی دفعہ آیا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے صحابہ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی تھی جس میں ہر قسم کی سوشل تکالیف اور مشکلات کا علاج تھا اور پھر رسول کریم ﷺ نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا۔پھر وہ تعلیم گئی کہاں اور تینتیس سال ہی میں وہ کیوں ختم ہو گئی۔عیسائیوں کے پاس مسلمانوں سے کم درجہ کی خلافت تھی لیکن ان میں اب تک پوپ چلا آرہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیوں میں پوپ کے باغی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی اکثریت ایسی ہے جو پوپ کو مانتی ہے اور انہوں نے اس نظام سے فائدے بھی اٹھائے ہیں۔لیکن مسلمانوں میں تنتیس سال تک خلافت رہی اور پھر ختم ہو گئی۔اسلام کا سوشل نظام تنئنتیس سال تک قائم رہا اور پھر ختم ہو گیا۔نہ جمہوریت باقی رہی نہ غرباء پروری رہی نہ لوگوں کی تعلیم اور غذا اور لباس اور مکان کی ضروریات کا کوئی احساس رہا۔الله